سیدنا نوح علیہ السلام كی كافر بیٹے كے لیے دعا

سوال:

آپ نے یہ سوال كیا ہے كہ حكم امتناعی كے باوجود نوح علیہ السلام بیٹے كی نجات كی دعا كیوں كی اور كشتی میں سوار ہونے كی دعوت كیوں دی؟


جواب:

جس حکم کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ سورۂ مومنون کی آیت 27 میں اس طرح بیان ہوا ہے:

فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَإِذَا جَاء أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُكْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ

پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم (عذاب)آ پہنچے اور تنور (بھر کر پانی) ابلنےلگے تو اس مں ہر (قسم کے جانوروں) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے اہل کو بھی، سو ائے ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیے جائیں گے۔

اس آیت میں منع كرنے كے لیے جو الفاظ اختیار كیے گئےہیں ، اس میں 'اھلك' كا لفظ ایسا ہے جس سے سیدنا نوح علیہ السلام كے دل میں ایك امید اور توقع پیدا ہوئی تھی۔ 'اھلك' كا لفظ اس بات كی گنجایش پیدا كررہا تھا كہ سیدنا نوح اپنے بیٹے كے لیے دعا كریں۔جب یہ بات ان سے كہی گئی كہ تم اس كشتی میں اپنے اہل خانہ كو داخل كرلینا تو ان لفظ كے اندر ان كا بیٹا لفظ كے معنی میں واضح طور پر شامل تھا۔ سیدنا نوح اسے ظالموں میں سے نہیں سمجھ رہے تھے، بلكہ محض خطا كاروں میں سے دیكھتے تھے جنہیں ابتداء ً كفر كے باوجود ایمان كی سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔ چنانچہ سورۂ ہود میں سیدنا نوح كی دعا كے جو كلمات نقل ہوئے ہیں ، ان میں انھوں نے اسی لفظ اہل ہی سے استدلال كیا ہے :

وَنَادَى نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابُنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ

''اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ پروردگار میرا بیٹا بھی میرےاہل میں سے ہے (تو اس کو بھی نجات دے) تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر حاکم ہے ''۔

(11: 45)

یہی وجہ ہے كہ جب اللہ تعالی نے اس دعا كا جواب دیا تو اللہ تعالی نے یہی استدلال كا كہ وہ تمھارے اہل ہی میں سے نہیں ر ہے:

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ... اللہ نے فرمایا کہ نوح وہ تیرےاہل میں سے نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے ...

دوسری بات جو میں نے كہی ہے كہ وہ اپنے بیٹے كے بارے میں توقع ركھتے تھے كہ وہ دیر ہی سے سہی ایمان لے آئے گا اس كی توقع ان كے ان جملوں سے ظاہر ہوتی ہے جو انھوں نے اپنے بیٹے كو پكارتے ہوئے كہے ہیں :

وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلاَ تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ 0 قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاء قَالَ لاَ عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللهِ إِلاَّ مَن رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَاور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو ۔ اس نے کہا کہ میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا، وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں (اور نہ کوئی بچ سکتا ہے) مگر جس پر اللہ رحم کرے۔ اتنے میں دونوں کے درمیان لہر آحائل ہوئی اور وہ ڈوب کر رہ گیا ۔

مختصر الفاظ میں یوں كہیے كہ''حكم امتناعی ''كے الفاظ میں ایك توقع اور امید كی جگہ تھی، جس كی وجہ سے انھوں نے دعا كی اور بیٹے كو وہ محبت یا كسی اور وجہ سے ایسا كافر نہیں سمجھ رہے تھے جس كی مسلمان ہونے كی توفیق چھین لی گئی ہو۔ اس وجہ سے انھوں نے بیٹے كو ترك كفر اور كشتی میں سوار ہونے كی دعوت ایك ساتھ دی۔


یہاں یہ بات واضح رہے كہ اللہ تعالی نے ''حكم ِامتناعی ''صرف اصولی الفاظ میں دیا تھا ایسا نہیں تھا كہ لوگوں كے نام بتا كر منع كیا گیا تھا۔یہ اصولی حكم اس وقت آیا تھا جب كشتی بنانے كا حكم صادر ہوا تھا ۔ منع كرنے كا یہ حكم ان الفاظ میں تھا:

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلاَ تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ (ہود 11: 37)

اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیں گے

جب اللہ تعالی نے ان الفاظ میں حكم دیا تھا تو اب سیدنا نوح جسے ظالم سمجھیں گے ، اسی كے بارے میں بات نہیں كریں گے۔ چنانچہ جیسا میں نے اوپر بیان كیا ، سیدنا نوح اپنے بیٹے سے ابھی مایوس نہیں تھے۔ وہ اسے كفر پر ضرور سمجھ رہے تھے لیكن ایسا نہیں جیسا اللہ كے علم میں تھا۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے كہ طوفان دیكھ كر میرا بیٹا سمجھ جائے گا۔ اگر حضرت سفیان فتح مكہ كے موقع پر ایمان لاسكتے ہیں، تو ابن نوح سے بھی توقع ہو سكتی ہے كہ وہ فتحِ تنور كے وقت ایمان لے آتا۔ بسی یہی وہ اسباب ہیں جن كی بنا پر سیدنا نوح نے اپنےبيٹے (اہل میں سے ایك فرد )كے بارے میں دعا كی۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Shahbaz Khan who writes under his pen name; Sajid Hameed was born on the 10th of October 1965, in Pakpattan, then a small town in Sahiwal, Punjab, Pakistan. Mr.Khan works as the head of the Education Department at Al-Mawrid. His academic endeavors include working as the head of The Department of Islamic and Religious Studies at the University of Central Punjab in Lahore. Having achieved two Master’s degrees: MA Urdu and MA Islamic Studies, he is currently enrolled as a PhD scholar at UMT, Lahore, dissertating on “Muslim Epistemology”.  His MS (MPhil) was on Islamic Jurisprudence with a thesis on “The Probable and Definitive Signification of Text in Islamic Jurisprudence”. Alongside this, he has designed a large number of courses for graduate, undergraduate and younger students. 

Mr.Khan studied the Holy Qur’an from Mr.Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He gained knowledge of the Hadith through the Muwatta of Imam Malik and through Nuzhah al-Fikr, a famous work on Hadith criticism under Hafiz Ata ur Rehman: an erudite Hadith scholar. He has remained a student of advanced studies in religious disciplines under Mr. Javed Ahmad Ghamidi since 1987, granting him a deep understanding of the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.

Mr.Khan’s teaching career is highlighted by the prestigious colleges and universities of Lahore that he has taught at. Arabic language and rhetoric, Islamic Law and Jurisprudence, Urdu language, Quran, Hadith, and Muslim Philosophy are his primary subjects. Coupled with his academic and professional accolades are appearances on several televised talk shows and being the author of various religious books and research articles.