سکول کے بچوں کو جنسی تعلیم

سوال:

ہائی سکول کے بچوں کو سیکس کی تعلیم دینے سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ اسلامی شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟


جواب:

بچوں کی تعلیم کے دو مقاصد ہیں ایک دنیوی اور ایک دینی۔ دینی مقصد یہ ہے کہ بچے اپنے دین سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔ انھیں معلوم ہو کہ اصل میں یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے جو اس میں کامیاب ہوگا وہ آخرت میں اجر پائے گا اور جو اس میں ناکام ہوگا اسے سزا ملے گی۔ دین کی تمام تعلیمات دراصل اسی امتحان میں کامیابی کو پیش نظر رکھ کر دی گئی ہیں۔ 

دنیوی مقصد دو ہیں ایک یہ کہ بچے اپنے بڑوں کے علم، عمل اور روایات کے امین بنیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے کوئی صلاحیت پیدا کر لیں۔

جنس کی تعلیم ظاہر ہے اس دنیوی مقصد ہی کے ذیل کی چیز ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس حوالے سے ٹوٹکوں معالجوں اور تصورات کی صورت میں بہت سی غلط چیزیں رائج ہیںاور اس کے لیے مناسب رہنمائی کا اہتمام ہونا چاہیے۔ 

رہا دین تو وہ ہمیں ہماری دنیا کے مسائل کا حل سکھانے نہیں آیا۔ اس میں ہمیں اپنی عقل پر اعتماد کرنا ہے۔ اوپر بیان کردہ دونوں مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ہی طے کرنا ہے کہ سیکس کی تعلیم کا مناسب وقت اور تدبیر کیا ہے۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ سکول کے بچوں کو یہ تعلیم اپنے اندر کچھ مفاسد رکھتی ہے۔ اس کے لیے کوئی دوسری صورت اختیار کرنی چاہیے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author