سفرِ حج وعمرہ کے دوران میں تکرارِ عمرہ کی شرعی حیثیت

سوال:

باہر سے آنے والے اکثر حجاج ومعتمرین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں اپنے عارضی قیام کے دوران میں حدود حرم سے باہر جاتے اور تنعیم کے علاقے کی معروف مسجد، مسجدِ عائشہ سے احرام باندھ کر متعدد بار عمرہ کرتے ہیں۔ اور اپنے اِس عمل کو بہت ہی باعث اجر وفضیلت سمجھتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ حاجی یا معتمر کے لیے مکہ میں قیام کے دوران میں اِس تکرارِ عمرہ کی دین میں کیا حیثیت ہے ؟ حدیث وسنت کی رو سے کیا عامۃ الناس کا یہ عمل واقعتاً دین میں پسندیدہ اور مشروع ہے ؟


جواب:

شریعتِ اسلامی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی روایات میں حجاج ومعتمرین کے اِس عمل کے مشروع اور پسندیدہ ہونے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ سنت کی رو سے حج وعمرہ کی عبادات میں مشروع طریقہ اصلاً یہ ہے کہ آدمی حج کے لیے اپنے وطن سے الگ سفر کرے اور عمرہ کے لیے الگ۔ دُور دراز سے آنے والوں کے لیے یہ حکم زحمت کا باعث ہوسکتا تھا،چنانچہ اِسی بنا پر اللہ تعالٰی نے اُنہیں اجازت دی ہے کہ وہ اگر چاہیں تو اپنے حج کے سفر میں عمرہ بھی ادا کرلیں۔ تاہم اِس رخصت سے فائدہ اُٹھانے کی بنا پر قرآن کی رو سے اُنہیں قربانی یا روزوں کی صورت میں فدیہ ادا کرنا ہوگا(البقرہ 196:2)۔

قرآن کے اِس حکم سے اللہ تعالٰی کا یہ منشا بالکل واضح ہے کہ اِن عظیم عبادات کی ادائیگی کا اصل اور افضل طریقہ یہی ہے کہ آدمی اِن میں سے ہر کے لیے الگ سے عزمِ سفر کرے۔

اور فدیے کے حکم سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے جب حج کے سفر میں ایک عمرہ ادا کرنے پر فدیہ عائد کردیا ہے تو پھر اُس پروردگار کے نزدیک ایک سفر میں متعدد بار عمرہ کرنا کوئی پسندیدہ عمل کیسے ہوسکتا ہے!۔

پھر جب اللہ تعالٰی کے نزدیک ایک عمل پسندیدہ نہیں ہے تو یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اُس کا رسول اُس عمل کو انجام دے یا اُسے دین میں پسندیدہ قرار دے۔ چنانچہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور حج وعمرہ کے باب میں آپ کے اُسوہ کی روایتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حج یا عمرہ کے کسی سفر میں حدودِ حرم سے باہر جاکر کبھی کوئی عمرہ کیا ہے،نہ آپ نے اِسے مسلمانوں کے لیے کسی پسندیدہ عمل کی حیثیت سے کبھی بیان ہی فرمایا ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نفلی عمرے کے لیے مکہ مکرمہ سے باہر نکلنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ اور یہ ایک ایسی بدعت ہے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں عمل کیا ہے،نہ آپ کے صحابہ نے؛ماہِ رمضان میں،نہ اُس کے سوا کسی دوسرے مہینے میں۔ سیدہ عایشہ کو بھی آپ نے خود اِس کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔ بلکہ اُن کی مراجعت (اور اصرار) پر تالیف قلب کے لیے آپ نے اُنہیں اِس کی اجازت دی تھی۔ (الاختیارات العلمیۃ،ابن تیمیۃ،ص۱۱۹)۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح آج کل بہت سے لوگ مکہ مکرمہ سے باہر نکل کر عمرہ کرتے ہیں؛نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس طرح عمرہ کرنا عمر بھر میں ایک بار بھی کبھی صادر نہیں ہوا۔ بلکہ آپ نے تو اپنے تمام عمرے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہوئے ہی کیے ہیں۔ یہاں تک کہ منصبِ رسالت کے بعد آپ تیرہ سال مکہ ہی میں مقیم رہے ، لیکن سارے عرصے میں بھی یہ بات کہ آپ نے مکہ سے باہر نکل کر کوئی عمرہ کیا ہو، قطعاً کہیں نقل نہیں ہوئی ہے۔ (زاد المعاد،ابن القیم،86/2)

دار الھجرت مدینہ منورہ میں اپنے دس سالہ قیام کے دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار مرتبہ عمرے کا قصد کیا۔ جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے :

پہلی مرتبہ 6 ھجری میں آپ نے اپنے صحابہ کے ساتھ عمرے کا سفر کیا۔ تاہم حدیبیہ کے مقام مشرکین نے آپ کو روک لیا۔ چنانچہ آپ اور آپ کے صحابہ اُس سال اپنے عمرے کو اتمام تک نہیں پہنچا سکے۔ بلکہ حدیبیہ ہی کے مقام اپنے ھدی کے جانور ذبح کر کے آپ اور آپ کے صحابہ نے اپنے سر منڈوائے اور اِس طرح حالتِ احرام سے نکل آے۔

عمرے کا دوسرا سفر آپ نے اگلے سال 7 ھجری میں کیا۔ اُس سال آپ نے اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ ادا کیا اور تین دن مکہ میں قیام کر کے واپس مدینہ روانہ ہوئے۔

مدینہ سے تیسرا عمرہ آپ نے 8 ھجری میں جعرانہ کی میقات سے کیا۔ عمرہ کے لیے یہ تینوں اسفار ہر سال آپ نے ذو القعدہ ہی کے مہینے میں کیے تھے۔

آخری عمرہ آپ نے 10 ھجری کو حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہوئے ادا کیا۔(زاد المعاد،ابن القیم:93-90/2)

عمرے کے اِن تمام اسفار میں کوئی ایک سفر بھی ایسا نہیں ہے جس میں آپ نے یا آپ کے صحابہ رضی اللہ عنھم نے مکہ میں قیام کے دوران میں اُس سے باہر نکل کر کوئی عمرہ ادا کیا ہو۔

فتح مکہ کے موقع پر بھی آپ جب 8 ھجری کے ماہِ رمضان کے آخری ایام میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اپنے اُس سفر میں آپ اُنیس دن مکہ میں مقیم رہے (بخاری،رقم:4298)،لیکن حدود حرم سے باہر جاکر اُس موقع پر بھی کوئی عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا،نہ آپ کے صحابہ نے۔ اِس طرح عمرہ کرنا دین میں اگر کوئی مشروع اور پسندیدہ عمل ہوتا تو آپ کے اُسوہ یا آپ کے ارشادات میں اِس کے شواھد ہمیں ضرور مل جاتے۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ آپ کی نسبت سے اس عمل کا کوئی استناد کسی درجے میں بھی ثابت نہیں ہوتا۔ اور بالبداہت واضح ہے کہ عبادات کی نوعیت کا کوئی عمل اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے محروم ہے تو نہ صرف یہ کہ دینِ خداوندی میں اُسے کوئی حیثیت حاصل نہیں ہوتی،بلکہ اُسے غیر مشروع اور بدعت ہی قرار دیا جاتا ہے۔

چنانچہ محقق رائے یہی ہے کہ مکہ میں مقیم رہتے ہوئے حدودِ حرم سے باہر جاکر عمرہ کرنا قرآن وسنت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی رو سے ایک خلافِ سنت عمل اور غیر مشروع بدعت ہے۔ علماے سلف میں سے یہی رائے امام ابن تیمیہ اور ابن قیم کی ہے (مجموع الفتاوی،ابن تیمیہ301-248/26۔زاد المعاد،ابن القیم:176,175,94/2)۔

بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس مسئلے میں سیدنا ابن عباس،سالم،عطا،طاووس اور مجاہد کی آرا بھی اِسی قول کی تائید کرتی ہیں (مصنف ابن ابی شیبۃ،رقم الباب515,480,50:)۔

عصر حاضر کے جلیل القدر علما میں سے امام ناصر الدین البانی،شیخ صالح العثیمین،شیخ خالد المصلح،شیخ محمد علی فرکوس کی بھی یہی رائے ہے۔

مسئلۂ زیر بحث سے متعلق اب محض ایک سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے سیدہ عائشہ نے حدودِ حرم سے باہر جاکر تنعیم کے علاقے سے احرام باندھ کر جو عمرہ کیا تھا؛اُس کی کیا حیثیت تھی ؟ اور اُس واقعہ سے کیا ثابت ہوتا ہے ؟

اِس باب کی تمام روایتوں کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ حجۃ الوداع کے اُس موقع پر مدینہ منورہ سے آپ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئی تھیں۔ پھر جب مکہ مکرمہ پہنچیں تو وہ ایام سے تھیں؛جس کی بنا پر اپناقصد کیا ہوا عمرہ وہ ادا نہ کرسکیں۔ اور نتیجتاً اُسی حالتِ احرام میں باقی رہیں،یہاں تک کہ ایام حج کا آغاز ہوگیا اور اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق تمام حجاج کے ساتھ اپنے اُسی احرام میں حج ادا کیا۔ حج کے بعد اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:

اے اللہ کے رسول!کیا آپ سب حج وعمرہ دونوں کی ادائیگی کرکے لوٹیں اور میری واپسی صرف حج کے ساتھ ہو ؟

آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:

اے عائشہ! اللہ کے ہاں تمہیں بھی وہی کچھ ملے گا جو اِن سب کو ملے گا۔

پھر سیدہ نے کہا:(اے اللہ کے رسول!)میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف تک نہ کرسکی تھی۔

(چنانچہ سیدہ کے اصرار کو دیکھ کر)آپ نے اُن کے بھائی سے کہا:اے عبد الرحمٰن!تم اِنہیں لے کر جاؤ اور تنعیم سے لاکر عمرہ کراؤ۔ (مسلم،رقم:1211-1213۔بخاری،رقم:1560۔ابوداود، رقم:1785)

اِن تمام تر تفصیلات کو پیش نظر رکھ کر ہم اگر سیدہ عائشہ کے عمرۂ تنعیم کا اُس کے پورے پس منظر کے ساتھ تجزیہ کریں تو اُس سے مندرجہ ذیل اُمور ونتائج ثابت ہوتے ہیں :

ایک یہ کہ اِس عمرے کے لیے سیدہ عائشہ کو آپ سے اجازت لینی پڑی ہے۔ یہ اگر دین میں کوئی پسندیدہ اور مشروع عمل ہوتا تو آپ کو اجازت حاصل کرنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہ پڑتی۔

دوسرے یہ کہ سیدہ کی طلبِ اجازت اور اُن کے اصرار کی وجہ اصلاً وہ عمرہ تھا جس کا احرام باندھ کر وہ مدینہ سے روانہ ہوئی تھیں؛لیکن اپنی نسوانی معذوری کی بنا پر اُسے ادا نہ کرسکی تھیں۔

بالبداہت واضح ہے کہ اُن کے ساتھ یہ معاملہ اگر نہ ہوا ہوتا تو اِس عمرے پر اصرار اور اِس کا قصد وہ قطعاً نہ کرتیں۔ جیساکہ معلوم ہے کہ حجۃ الوداع کے اُس موقع پر بشمول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی شخص نے مزید عمرہ کرنے کی کوئی خواہش تک ظاہر نہیں کی۔ پھر واقعہ یہ ہے کہ اُس موقع پر سیدہ عائشہ کے بھائی عبد الرحمٰن،جن کے ساتھ وہ تنعیم تک گئی ہیں؛اور جن کے لیے موقع تھا کہ صورتِ حال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ بھی مزید ایک عمرہ کرلیتے؛نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں اِس عمرے کی کوئی ترغیب دی،نہ اپنی دینی بصیرت کی بنا پر خود اُنہوں نے اِسے کوئی عملِ مشروع سمجھا۔چنانچہ سیدہ کی رفاقت کے باوجود اُنہوں نے کوئی عمرہ ادا نہیں کیا۔

تیسرے یہ کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اِس واقعہ سے زیادہ سے زیادہ یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ حج کے کسی سفر میں اگر کسی خاتون کو وہی صورتِ حال پیش آجائے جو سیدہ عائشہ کو پیش آئی تھی تو اُس کے لیے اِس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ حج کے بعد،قصد کیا ہوا اپنا عمرہ ادا کرلے۔ اِس واقعہ سے اِسی استنباط کی بنا پر امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ تنعیم کے عمرے کو "عمرۃ الحائض" کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی اِس عمرے کی اگر کوئی مشروعیت ہے تو محض اُس عورت کے لیے جو گھر سے نکلتے ہوئے اپنا قصد کیا ہوا پہلا عمرہ اپنی ماہواری کے شروع ہوجانے کی بنا پر حج سے پہلے نہ کرسکی ہو۔

غرضیکہ اِس تمام بحث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ایک سفر میں جس طرح حج ایک ہی ہوا کرتا ہے،عمرہ بھی ایک ہی مشروع ہے۔ اِس کے برخلاف عمل کرنا خلافِ سنت ہے۔

answered by: Muhammad Amir Gazdar

About the Author

Muhammad Amir Gazdar


Dr Muhammad Amir Gazdar was born on 26th May 1974 in Karachi, Pakistan. Besides his studies at school, he learned the science of Tajweed Al-Qur’an from a renowned Qu’anic reciter, Qari Khalil Ahmad Bandhani and completed the memorization of the Qur’an in 1987 at Madrasah Tajweed al-Qur’an, Karachi.

He obtained his elementary religious education from Jami’ah Dar al-Hanafiyyah, Karachi. He graduated from Jami’ah al-Uloom al-Islamiyyah, Binnori Town, Karachi and obtained Shahadah Aalamiyyah in 1996 and received an equivalent certificate of Masters in Islamic Studies from the Karachi University.

During the year 1997 and 1998, he served in Jami’ah Binnori Town as a Tafseer and Tajweed teacher and also taught at Danish Sara Karachi (A Former Dawah Centre of Al-Mawrid Foundation).
In 1992, Dr Gazdar was introduced to Farahi school of thought when first time met with Ustaz Javed Ahmad Ghamidi (a renowned Islamic scholar) and had the chance to learn Islam from him and tried to solve many controversial issues of Hadith, Fiqh and Usool under his supervision.

In January 1999, he started another Masters programme in Islamic Sciences offered by Al-Mawrid foundation in Lahore and he completed it with top position in the batch in August 2001.
Mr Gazdar officially joined Al-Mawrid foundation as an associate fellow in research and education in 2002 and worked in this capacity until December 2018. He worked for the Karachi center of Al-Mawrid for about 10 years as a teacher, lecturer and researcher. He taught various courses, delivered weekly lectures, conducted workshops on different topics, taught in online classes, answered questions of the participants verbally and wrote many answers for foundation’s official website too.

In September 2012, he moved to Kuala Lumpur Malaysia to participate in another Masters programme in Islamic Revealed Knowledge and Heritage at International Islamic University Malaysia (IIUM). In January 2015, he completed his 3rd Masters in Qur’an and Sunnah department of the university with the GPA: 3.92.

Dr Amir started his Ph.D programme in the Qur’an and Sunnah department of International Islamic University Malaysia (IIUM) in February 2015 and completed it with distinction on 25th March 2019. His Ph.D research topic was a comparative study of contemporary scholars’ view on the issue of Hijab and Gender Interaction in the light of Quranic and Hadith texts.

In December 2018, he has been appointed at Al-Mawrid Foundation as Fellow of research and education.

Dr Gazdar has many academic works to his credit. He has written a few booklets published in Urdu language and has authored several articles which have been published in various research journals in Malaysia, India and Pakistan (Arabic language). His two research books have been in Malaysia and Lebanon in 2019 (Arabic language).

Furthermore, he is actively working in the Hadith project of Ustaz Javed Ahmad Ghamidi and playing a significant role in it as a researcher and writer since January 2016.

Moreover, Dr Gazdar has been leading in Qiyam-e-Ramadhan and Tarawih prayer since 1989 in various mosques and at Sada Bahar Lawn (2002-2011) in Karachi, Pakistan. He worked as a part time Imam at Sultan Haji Ahmad Shah mosque of International Islamic University Malaysia (IIUM) from 2013 to 2016 where he lead in Tarawih and Qiyam-e-Ramadhan for four years. Other than this, he has served for several mosques in Kuala Lumpur as a volunteer Imam for Tarawih and Qiyam-e-Ramadhan.

Answered by this author