سجدہ تلاوت کی شرعی حیثیت

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ گھر میں بچوں کے کھلونوں میں گڈیاں اور گڈے ہوتے ہیں ۔ کیا ان کی موجودگی میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ سجدہ تلاوت کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اس کے کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ گھر میں بچوں کے کھلونوں میں گڈیاں اور گڈے ہوتے ہیں ۔ کیا ان کی موجودگی میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ۔

اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ ہمارے نزدیک صرف وہی تصویریں اور مجسمے حرام ہیں جن کو مقدس سمجھا جاتا اور ان کی پوجا کی جاتی ہے ۔ چونکہ ان کھلونوں کا اس طرح کے کسی تصور سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ان کی موجودگی میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ ہمارے گھروں میں ایسی تصویریں بھی موجود ہو سکتی ہیں ان کے بارے میں متنبہ رہنا چاہیے ۔

آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ سجدہ تلاوت کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اس کے کرنے کا طریقہ کیا ہے ۔

سجدہ تلاوت ایک نفلی عمل ہے اور یہ قرآن مجید کے ساتھ پڑھنے والے کے زندہ تعلق کو ظاہر کرتا ہے اس لیے اس کی غیر معمولی اہمیت ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ وہ تلاوت کرتے ہوئے جنت کے ذکر پر طلب کی دعا ، جہنم کے ذکر پر پناہ کی دعا اور اسی طرح ان مواقع پر سجدہ بھی کرتے تھے جن میں اس مناسبت کا مضمون آتا ہے ۔ ہمارے لیے اس اسوہ میں قرآن کے ساتھ حقیقی تعلق کا نمونہ ہے جس کی پیروی میں ظاہر ہے برکت بھی ہے اور اجر بھی ۔ کرنے کا طریقہ کوئی خاص مقرر نہیں ہے آپ چاہیں تو نماز کی طرح باقاعدہ مصلے پر بھی یہ سجدہ کر سکتے ہیں اور چاہیں تو بیٹھے بیٹھے بھی سجدہ کر سکتے ہیں ۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author