سر کی اوڑھنی

سوال:

میں عورتوں کے پردہ سے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں۔ غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ عورت کا سر پر اوڑھنی لینا ضروری نہیں ہے۔ سر کی اوڑھنی سے سینہ ڈھانپ لینا ضروری ہے۔ تو میں نہیں سمجھ پا رہا کہ اگر سر کی اوڑھنی سے سینہ ڈھانپنے کا حکم ہے تو پھر سر کو اوڑھنے کا حکم ختم تو نہیں ہو جاتا وہ بھی برقرار رہنا چاہیے۔ برائے مہربانی وضاحت کے ساتھ جواب ارسال کریں۔


جواب:

امید ہے ، آپ بخیر ہوں گے ۔ آپ نے سر پر دوپٹے کے بارے میں استاد محترم کی رائے نقل کی ہے اور اس کے بارے میں اپنا اشکال بیان کیا ہے۔

آپ نے غالبا یہ رائے کسی سوال کے جواب میں ان کی گفتگو کی صورت میں سنی ہے ۔ اگر آپ نے میزان یا اشراق میں ان کی رائے پڑھی ہوتی تو آپ کم از کم یہ اشکال پیش نہ کرتے ۔ ان کی رائے یہ ہے کہ قرآن کی رو سے سر ڈھانپنا مطلوب اور پسندیدہ ہے ۔ ان کے الفاظ ہیں:

"اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے ہاتھ، پاؤں اور چہرے کے سوا جسم کے کسی حصے کی زیبایش، زیورات وغیرہ اجنبی مردوں کے سامنے نہیں کھولیں گی۔ قرآن نے اِسے لازم ٹھیرایا ہے۔ سر پر دوپٹا یا اسکارف اوڑھ کر باہر نکلنے کی روایت اِسی سے قائم ہوئی ہے اور اب اسلامی تہذیب کا حصہ بن چکی ہے۔ عورتوں نے زیورات نہ پہنے ہوں اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو وہ اِس کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ یہ رویہ بھی قرآن ہی کے اشارات سے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دوپٹے سے سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کاحکم اُن بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ قرآن کا ارشاد ہے وہ اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر ساتھ ہی وضاحت کر دی ہے کہ پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ احتیاط کریں اور دوپٹا سینے سے نہ اتاریں۔ اِس سے واضح ہے کہ سر کے معاملے میں بھی پسندیدہ بات یہی ہونی چاہیے اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو عورتوں کو دوپٹا سر پر اوڑھ کر رکھنا چاہیے۔ یہ اگرچہ واجب نہیں ہے، لیکن مسلمان عورتیں جب مذہبی احساس کے ساتھ جیتی اور خدا سے زیادہ قریب ہوتی ہیں تو وہ یہ احتیاط لازماً ملحوظ رکھتی ہیں اور کبھی پسند نہیں کرتیں کہ کھلے سر اور کھلے بالوں کے ساتھ اجنبی مردوں کے سامنے ہوں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author