سید زادی کا غیر سید سے نکاح

سوال:

سید خاندانوں میں خاص طور پر لڑکیوں کے رشتے غیر سیدوں میں نہیں کیے جاتے جس کے نتیجے میں گوناگوں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ بات قرین انصاف ہے اور کیا اسلام نے ایسا کوئی حکم دیا ہے؟


جواب:

اسلام میں ایسی کوئی بات نہیں پائی جاتی، بلکہ اسلام تو ذات پات ہی کے تصور کے خلاف ہے۔ کسی بھی مسلمان لڑکی کا رشتہ کسی بھی مسلمان لڑکے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ ذات پات کے تصورات لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں جن کی دین میں کوئی حیثیت نہیں ، ان سے بسا اوقات بہت فتنے پیدا ہو جاتے ہیں۔ سادات خاندانوں میں باہر رشتہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو باقی مسلمانوں کی نسبت مقدس تصور کرتے ہیں، حالانکہ اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ قرآن مجید نے صاف طور پر یہ کہہ دیا ہے کہ اللہ کے نزدیک شرف و عزت کا معیار تقویٰ ہے۔ اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اصلاح کی جو کوششیں کی ہیں، ان کی ایک مثال یہ درج ذیل واقعہ ہے۔


عربوں کے ہاں آزاد اور غلام میں زمین آسمان کا فرق سمجھا جاتا تھا۔ اگر کوئی غلام آزاد کر بھی دیا جاتا، تب بھی اس کا درجہ معاشرے میں آزاد آدمی کی بہ نسبت بہت کم رہتا تھا۔ معزز گھرانے کی کوئی آزاد خاتون اس کے ساتھ نکاح کرنے کا تصور تک نہ کر سکتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات واضح کر نے کے لیے کہ اسلام کی پسندیدہ معاشرت میں، انسانی اور معاشرتی سطح پر ، آزاد اور غلام کے مابین کوئی فرق نہیں ہے، اپنے خاندان کی ایک آزاد خاتون زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہا۔ زینب ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔ ان کی پرورش عرب کے معزز ترین گھرانے میں ہوئی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کے لیے ، حضرت زینب کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تو ان کے رشتہ داروں نے اسے منظور نہیں کیا اور خود حضرت زینب نے بھی اس رشتے کو اپنے لیے پسند نہیں کیا۔ ان کے اپنے الفاظ جو روایات میں آتے ہیں، وہ یہ ہیں: ''میں نسب کے اعتبار سے زید سے برتر ہوں، میں قریش کی شریف زادی ہوں۔'' لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر اصرار ہے کہ یہ نکاح ہو تو انھوں نے اور ان کے خاندان والوں نے فوراً سر تسلیم خم کر دیا۔


چنانچہ ہمیں بھی اس حوالے سے اصلاح کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ البتہ، ایک بات ذہن میں رہے کہ کسی جگہ رشتہ طے کرتے ہوئے اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ لڑکا اور لڑکی اپنے کلچر، رسوم و رواج اور خاندانی عادات و اطوار کے اعتبار سے ایسے مختلف نہ ہوں کہ ان کے مابین نباہ ہی نہ ہوسکے۔اس لیے سید خاندان کے لوگ اپنی بیٹی کا رشتہ خواہ سید خاندان میں کریں یا غیر سید خاندان میں وہ رشتہ کرتے وقت یہ خیال ضرور رکھیں کہ اس سید خاندان یا غیر سید خاندان کا کلچر، رسوم و رواج اور خاندانی عادات و اطوار ایسے مختلف نہ ہوں کہ دونوں کے مابین نباہ ہی نہ ہوسکے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author