سگے بھانجے، بھتیجے، بھانجی یا بھتیجی کی بیٹی سے شادی

سوال:

کیا کوئی آدمی اپنے سگے بھانجے، بھتیجے، بھانجی یا بھتیجی کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے، اسی طرح کیا کوئی عورت اپنے سگے بھانجے، بھتیجے، بھانجی یا بھتیجی کے بیٹے سے شادی کر سکتی ہے؟سگے سے میری مراد والد کی طرف سے سگا ہونا ہے نہ کہ والدہ کی طرف سے بھی۔


جواب:

ان سب صورتوں میں جواب نہیں میں ہے، یعنی درج بالا رشتوں میں کوئی شادی بھی جائز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پوتی اور نواسی بیٹی کے حکم میں اور پوتا اور نواسا بیٹے کے حکم میں ہوتا ہے۔

چنانچہ بھانجی کی بیٹی بھانجی، بھتیجی کی بیٹی بھتیجی، بھانجے کی بیٹی بھانجی کے حکم میں اور بھتیجے کی بیٹی بھتیجی کے حکم میں ہو گی۔ اسی طرح بھانجے کا بیٹا بھانجے کے حکم میں اور بھتیجے کا بیٹا بھتیجے کے حکم میں ہوگا۔

اگر اولاد کے والدین دونوں مشترک ہیں تب بھی یہی حکم ہے اور اگر صرف ان کا والد مشترک ہے تب بھی یہی حکم ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author