صحابہ کرام کی جنگیں

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی جنگ کے سوا کوئی جنگ نہیں لڑی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کس کی اجازت سے جنگیں لڑیں؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

آپ نے بنیادی طور پر دو سوالات پوچھے ہیں: ایک حضرت عمر یازیادہ درست الفاظ میں خلافت راشدہ کے دور میں ہونے والے اُس جہاد سے متعلق جس کے نتیجے میں اسلامی حکومت پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گئی۔ آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام نے یہ جہاد کس کے حکم سے کیا تھا۔ آپ کا دوسرا سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی جنگ کے علاوہ اپنی زندگی میں کبھی جنگ نہیں کی۔ ہم اس دوسرے سوال کو پہلے لے لیتے ہیں۔

ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیے گئے جہاد کو دفاعی اور اقدامی میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ بلکہ اس کی درست ترین تعبیر وہی ہے جو قرآن کریم نے اختیار کی ہے۔ یعنی یہ ظلم کے خلاف جہاد تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

جن مسلمانوں سے (خوامخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیوں کہ اُن پر ظلم ہورہا ہے۔ اور خدا (ان کی مدد کرے گا وہ) یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پرودگار خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خداكا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی مدد ضرور کرتا ہے۔ بے شک خدا توانا (اور) غالب ہے۔، (حج 39-40:22)

ظاہر ہے کہ ظلم کے خلاف جب جہاد ہوگا تو وہ دفاعی نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی نوعیت اقدامی ہو۔ مثال کے طور پر اگر لوگوں کو ان کے دین پر عمل نہ کرنے دیا جارہا ہو یا ان کی جان، مال اور آبرو کو بغیر کسی وجہ کے نقصان پہنچایا جارہا ہو تو ظلم کرنے والوں کے خلاف اقدامی جنگ بھی کی جاسکتی ہے۔

جہاد کی اس نوعیت کے علاوہ 'جو ظلم کے خلاف کیا جاتا ہے'، اس کی ایک دوسری شکل بھی قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے۔ یعنی اتمام حجت کے بعد منکرین حق کے خلاف جہاد۔ اس کی تفصیل اگر آپ چاہیں تو استاذ گرامی کی کتاب میزان کے باب 'قانونِ جہاد' کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

جہاں تک آپ کے اس سوال کا تعلق ہے کہ صحابہ کرام نے خلافتِ راشدہ کے دور میں کس کے حکم سے جہاد کیا اور اسلامی سلطنت کو فروغ دیا تو اس سے ملتے جلتے ایک سوال کا جواب ہم پہلے بھی دے چکے ہیں۔ اسے آپ کے لیے یہاں نقل کردیتے ہیں۔ امید ہے کہ آپ کو اپنے سوال کا جواب اس میں مل جائے گا۔

''خلافت راشدہ کے زمانے میں صحابہ کرام نے جو جہاد کیا اس کی درست نوعیت سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان کا وہ منصب سمجھ لیں جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے۔ اراشاد باری تعالیٰ ہے:

''اور اللہ (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔ (اور تمہارے لیے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین( پسند کیا) اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ (کے دین کی رسی) کو پکڑے رہو۔ وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے''۔ (حج: 78)
''اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیان کی جماعت بنایا تاکہ تم لوگوں پر (حق کی ) شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر یہ شہادت دے''۔ (بقرہ: 143)
''تم وہ بہترین جماعت ہو جو لوگوں (پر حق کی شہادت) کے لیے برپا کی گئی ہے۔ (اس لیے کہ) تم (ایک دوسرے کو) بھلائی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر سچا ایمان رکھتے ہو''۔ (آل عمران: 110)

ان آیات کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت حضرت ابراھیم کی اولاد کے جس گروہ یعنی بنی اسماعیل کی طرف ہوئی تھی، انھیں اللہ تعالیٰ نے ایک خصوصی منصب پر فائز کیا تھا۔ وہ یہ کہ یہ لوگ انسانیت اور حضور کے درمیان ایک درمیانی کڑی تھے جسے قرآن 'امت وسط' یعنی درمیانی امت کہتا ہے۔ اس تعلق ميں ایک طرف اللہ اور اس کا رسول اور دوسری طرف باقی انسانیت ہے جبکہ بيچ ميں صحابہ کرام کی وہ مقدس جماعت ہے جس پر اللہ کے رسول نے خود حق کی شہادت دی۔ ان آیات میں ان کی ذمہ داری کو اس طرح بيان کیا گیا ہے کہ جو شہادت اللہ کے پیغمبر نے ان پر دی ہے،وہی شہادت اب ان لوگوں کو بقیہ انسانیت پر دینی ہوگی۔

اس پس منظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدنی دور کے آخری حصے یعنی ہجرت کے ساتویں برس صحابہ کرام کے لیے اس کام کا ایک واضح لائحہ عمل خود متعین کردیا تھا، جب آپ نے ملک عرب اور بیرونی ممالک کے بادشاہوں کے پاس خطوط روانہ کیے تھے۔ تاریخ کی روشنی میں ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ان خطوط کے رد عمل میں ان ریاستوں کی طرف سے ایسے اقدامات کیے گئے جن کے نتیجے میں ان طاقتوں سے جنگ و جدل کا آغاز ہوگیا۔ خاص طور پر اس زمانے کی دو بڑی سپر پاورز يعنی ايران کی ساسانی اور روم کی مسيحی حکومت نے انتہائی اقدامات اٹھاليے تھے۔ کسریٰ ايران خسرو پرویز نے آپ کے نامہ مبارک کو پھاڑ کر آپ کے سفیر کے ساتھ گستاخی کی اور یمن کے اپنے ایرانی گورنر کو حکم دیا کہ وہ (معاذ اللہ) رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو گرفتار کرکے اس کے پاس بھیجے۔ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے منصب رسالت سے قطع نظر، عرب کے فرماں روا کی حيثيت سے آپ کے خلاف اس کے اس اقدام کا مطلب کھلا ہوا اعلان جنگ تھا۔اس کے جواب میں حضور نے یہ پیش گوئی فرمائی کہ کسریٰ کی سلطنت بھی اسی طرح چاک کردی جائے گی جس طرح اس نے آپ کے نامہ مبارک کو چاک کيا تھا۔ دوسری طرف بصری کے عیسائی حاکم شرجیل نے جو رومی حکومت کا حلیف تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کو شہید کردیا۔ جس کے نتیجے میں جنگ موتہ اور جنگ تبوک کے وہ واقعات پیش آئے جومسلمانوں اور رومی حکومت کے درمیان عملاًجنگ کی شکليں تھيں۔اسی سلسلے کی تيسری فوجی مہم وہ تھی جورسول اللہ نے اپنی وفات سے قبل حضرت اسامہ بن زید کی قیادت میں روانہ کی، مگر آپ کی وفات کی بنا پر عملاً وہ سيدنا ابو بکر کے دور خلافت ہی ميں روانہ ہوئی۔

یہ وہ حالات تھے جن میں خلافتِ راشدہ کا آغاز ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت اسامہ بن زید کے لشکر کو ملک میں پھیلے ہوئے فتنہ ارتداد کے باوجود روانہ کیا۔ جس کے نتیجے میں رومی حکومت کے خلاف جنگوں کا یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا اور بالآخر رومی سلطنت کو اپنے ایشیائی مقبوضات سے دستبردار ہوکر یورپ تک محدود ہونا پڑا۔ جہاں تک ایرانی حکومت کا تعلق ہے تو وہ رومی حکومت سے کہیں زیادہ سرکش اور متکبر تھی۔ کسریٰ پرویز نے حضور کے خلاف جو اقدام کيا تھا وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے۔ وہ اگر جیتا رہتا تو لازماً رومی حکومت سے کہیں زیادہ بڑے پيمانے پر عرب پر فوج کشی کرتا۔ لیکن رسول اللہ کی پیش گوئی کے مطابق پہلے خسرو پرویز اپنے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں مارا گیا۔ پھر اس کے بعد اگلے کئی برس تک ایرانی سلطنت کے تخت پر ایک کے بعد ایک دوسرا بادشاہ بیٹھتا اور ہلاک ہوتا رہا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے آپس کے جھگڑوں ہی میں ایسا الجھے کہ عرب کی طرف کوئی توجہ نہ دے سکے۔

حضرت ابوبکر کے زمانے میں جب فتنہ ارتداد پھیلا اس وقت ایرانی حکومت کے تخت پر شاہی خاندان کا آخری چشم و چراغ یزد گرد تخت نشین تھا اور سلطنت کو کسی درجے میں استحکام نصیب ہوچکا تھا۔ حضرت ابوبکر کی دور اندیش نگاہوں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ اب ایرانی صوبہ عراق کے راستے جو عرب کا ايک کاحصہ تھا جلد یا بدیر مسلمانوں پر حملہ کریں گے۔ چنانچہ فتنہ ارتداد کو فرو کرنے کے بعد ہی آپ نے اپنے ایک مشہور کمانڈر مثنی بن حارثہ شیبانی کو اس کام پر مقرر کردیا کہ وہ عراق سے ہونے والے کسی ممکنہ حملے کا دفاع کریں۔ پھر یہیں سے ایرانی حکومت کے ساتھ جنگوں کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جو آخر کار ایرانی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔

یہ پورا تفصیلی تاریخی پس منظر اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہے کہ صحابہ کرام کے دور میں ہونے والی تمام جنگیں کوئی مستقل جنگیں نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط سے پیدا ہونے والے رد عمل کا نتيجہ تھیں۔ مگر ان جنگوں کے ذريعے ہی سے وہ حالات پيدا ہوگئے جن کی بنا پر صحابہ کرام شہادت حق کے اپنے اس مشن کو پورا کرسکے جس کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی تھی۔ان کا يہ مشن رسول اللہ کے مشن ہی کی ایک ایکسٹینشن تھی جو آپ ہی کے تربیت یافتہ لوگوں کے ہاتھوں انجام پائی۔ یہی سبب ہے کہ صحابہ کرام نے مجوسیوں اور عیسائیوں پر جزیہ کا وہ ٹیکس عائد کیا جو رسول اللہ نے اپنے مخاطب عرب کے یہود و نصاری پر عائد کیا تھا اور جو دراصل رسالت سے انکار کی ايک سزا ہے۔

اس تفصيل سے يہ حقيقت بالکل واضح ہے کہ یہ صحابہ کرام کا جہاد رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے مشن ہی کا تسلسل تھا۔ صحابہ کرام امت وسط ہونے کی بنا پر اس کام کو کرنے کے نہ صرف اہل تھے بلکہ اس کام کا پورا دائرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطوط سے طے کردیا تھا۔ صحابہ کرام نے کبھی بھی اس دائرے سے نکلنے کی کوشش نہیں کی اور ہمیشہ اپنے آپ کو اسی دائرے تک محدود رکھا۔

اس جواب کے کسی پہلو کے حوالے سے اگر کوئی بات مزيد وضاحت طلب ہے توآپ بلا جھجک ہم سے رابطہ کريں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بات درست ہے اسے ہمارے دلوں ميں راسخ فرمادے اور ہماری غلطيوں کو معاف فرماکر صحيح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے،آمين

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author