صحابۂ کرام کی صحیح تصویر

سوال:

صحابہ کی جو تصویر ہمیں قرآن میں دکھائی دیتی ہے، وہ بہت خوب ہے اور بہت عمدہ ہے، لیکن انھی حضرات کی جو تصویر ہمیں تاریخ کے آئینے میں نظر آتی ہے، وہ بہت افسوس ناک اور بہت تکلیف دہ ہے، اس تصویر میں یہ لوگ بعض موقعوں پر عام انسانی صفات سے بھی عاری دکھائی دیتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے ؟


جواب:

صحابہ کے حوالے سے یہ سوال جو آپ نے اٹھایا ہے، یہ ہمیں اس پر مجبور کرتا ہے کہ ہم یک دم تاریخ کو جھوٹ اور باطل باتوں کا پلندہ کہہ کر رد کر دیں اور یہ کہہ دیں کہ ہمارے پاس اپنی تاریخ میں سے کچھ بھی موجود نہیں ہے اور جو کچھ موجود ہے، وہ ہمارے دشمنوں کی اڑائی ہوئی، جھوٹی باتیں ہیں۔ کیا ہمارا ایسا کرنا درست ہو گا؟


میرا خیال ہے کہ وہ ساری تاریخ جو ہمارے پاس موجود ہے، وہ ساری کی ساری جھوٹ نہیں ہے، بلکہ اس میں جھوٹ کے ساتھ ساتھ سچ بھی موجود ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ قرآن و حدیث کے جید علما ہماری تاریخ پر تحقیقی کام کریں اور حتی الامکان خالص سچ کو سامنے لانے کی کوشش کریں۔


لیکن اس کے ساتھ ہمیں یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ صحابۂ کرام کا معاملہ بالکل فرشتوں والا تھا، یعنی جن کے ہاں کسی اختلاف اور جھگڑے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میرا خیال ہے کہ اختلاف اور لڑائی جھگڑا چھوٹے لوگوں میں بھی ہوتا ہے اور بڑے لوگوں میں بھی، یہ برے لوگوں میں بھی ہوتا ہے اور اچھے لوگوں میں بھی۔ بس فرق یہ ہوتا ہے کہ برے لوگ اپنے اختلاف اور لڑائی جھگڑے میں مجموعی طور پر اپنے اخلاق کو برقرار نہیں رکھ پاتے اور وہ ہر قدم اٹھانے کو تیار ہو جاتے ہیں، لیکن اچھے لوگ اپنے اختلاف اور لڑائی جھگڑے میں مجموعی طور پر اپنے اخلاقی معیار سے نہیں گرتے، بلکہ بعض اوقات اس طرح کے جھگڑوں میں ان کی شخصیت کی وہ خوبیاں سامنے آتی ہیں ، جو عام طور پر نہیں دیکھی جا سکتیں یا دوسرے لفظوں میں آپ یوں کہہ لیں کہ چھوٹے اور برے لوگوں کی لڑائی ان کی چھوٹائی اور برائی کو نمایاں کرتی ہے اور بڑے اور اچھے لوگوں کی لڑائی ان کی بڑائی اور اچھائی کو نمایاں کرتی ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author