شبِ قدر کا وقوع

سوال:

شبِ قدر کے حوالے سے ایک وضاحت مطلوب ہے ۔وہ یہ کہ دنیا میں تاریخوں کا اختلاف پایا جاتا ہے ، تو مثال کے طور پر اگر کسی رمضان میں اکیسویں شب ، ’شبِ قدر‘ ہو تو جہاں چاند کے اختلاف کے باعث بیسویں شب ہو گی ، تو کیا وہاں کے لوگ اس سے محروم رہیں گے ؟


جواب:

لیلۃ القدر متعین طور پر کب ہوتی ہے ، اس بارے میں نہ قرآن کریم میں کچھ بیان ہوا ہے نہ کسی صحیح حدیث میں اس کی کوئی تعیین کی گئی ہے۔ قرآن سے صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ مبارک رات ماہِ رمضان کی کوئی رات ہے۔ بعض روایات میں رمضان کے آخری عشروں کی طاق راتوں کا تذکرہ ملتا ہے اور اسی حوالے سے آپ کا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اکیسویں شب کو شب قدر ہوئی تو جن علاقوں میں اس وقت بیسویں شب ہوئی ، وہاں کے لوگوں کو تو شب قدر نہیں ملے گی۔ ہمارے نزدیک اس معاملے میں جو بات قرینِ قیاس محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان کو اس مبارک رات کے حوالے سے جستجو اور تلاش پر آمادہ کیا گیا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ اس رات کو پالیں ، لیکن اگر ان کاشوق و جستجو انہیں خدا کی قربت اور اس کی نظرِ کرم کا ایک لمحہ بھی دے گیا تو وہ ان کے لیے ہزار لیلۃ القدر سے بہتر ہے۔ خد اکی نظرِ عنایت کا یہ لمحہ کسی زمان و مکان کا پابند نہیں ، بلکہ بندے کی عاجزی، اس کے رجوع، اس کے شوق اور ا س کے جذبات کی شدت پر منحصر ہے۔ رمضان المبارک میں روزہ کی شدت و حدت جھیلنے کے بعد ، رات کی تنہائی میں کی جانے والی عبادت میں اس بات کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے کہ انسان خد اکی توجہ کو پا لے۔ اس لیے لیلۃ القدر ملے نہ ملے ، انسان کو ساری توجہ رب کی رحمت اور اس کی نظرِ کرم کی طرف رکھنے چاہیے ۔ ہاں یہ امید ضرور کرنی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرتے ہوئے شبِ قدرکی ساعات میں سے کچھ حصہ اسے بھی مل جائے گا۔

باقی رہا وہ ٹیکنیکل مسئلہ جو آپ نے بیان فرمایا ہے اس میں سمجھنے کی بنیادی بات یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں اور کائنات کے ساتھ ٹھیک اسی طرح معاملات کرتے ہوں جس طرح عقل انسانی چیزوں کو دیکھتی اور سمجھتی ہے۔ شبِ قدر کے معاملے میں بھی ہمارے پاس اس معاملے میں مکمل ڈیٹا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا طریقۂ کار کیا ہے۔ مثلاًہم یہ با ت نہیں جانتے کہ شبِ قدر دنیاکے الگ الگ حصوں میں ایک ساتھ ہوتی ہے یا الگ الگ ۔ اس لیے ہم اپنے محدود علم کی روشنی میں اس طرح کے سوالات نہیں اٹھا سکتے ۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author