شادی فرض ہے یا سنت؟

سوال:

شادی فرض ہے یا سنت؟ اگر والدین اپنی بیٹی کی شادی نہ کریں تو کیا وہ گناہگار ہوں گے؟ کیا یہ ان پر فرض ہے کہ بیٹی کی شادی کریں؟


جواب:

آپ نے جس معنی میں الفاظ فرض اور سنت استعمال کیے ہیں اس میں وہ ایک خاص فقہی نظام کی اصطلاحات ہیں جو ظاہر بات ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بہت بعد میں وجود میں آئیں۔ لہذا میری درخواست ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے اس سے صرف نظر کر کے معاملہ کو دیکھتے ہیں۔

نکاح اس مذہبی رسومات کا ایک لازمی حصہ ہے جو انبیاء علیہم السلام نے اللہ کے حکم سے مرد اور عورت کے تعلق کے لئے جاری کیا ہے۔ اس کا مقصد جنسی ضرورت کی تسکین، نسل انسانی کی بقا اور خاندان کے ادارے کا قیام ہے۔ ان میں سے ہر ایک چیز اللہ کے احکامات پر عمل کے لئے ضروری ہے۔ جنسی داعیہ کے تسکین انسان کی ضرورت ہے۔ شادی کے بغیر کسی دوسرے طریقہ سے یہ جائز طور پر ممکن نہیں ہے۔ لہذا جسمانی اور طبعی طور پر نارمل انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کو پاک رکھنے کے لئے اس کا انتظام کرے۔ ورنہ گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ لہذا ایسے افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ شادی کریں۔ ان کے لئے شادی فرائض کے دائرہ میں آ جاتی ہے جب وہ اس کی طاقت رکھتے ہوں اور خدشہ ہو کہ گناہ کر بیٹھیں گے۔

البتہ اگر کسی وجہ سے ایک شخص کی جنسی ضرورت دب گئی ہے اور وہ شادی نہیں کرتا تو اس کے لئے شادی نہ کرنا اس طرح خطرناک نہیں ہے۔

ہمارے معاشرہ میں بچیوں کی شادی والدین کرواتے ہیں لہذا ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جس طرح ان کی دیگر حوالہ سے تربیت کرتے ہیں اور ان کی ضروریات پورا کرتے ہیں اس معاملہ میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اگر وہ کسی غلط مقصد سے مثلا جائداد کی تقسیم کے خوف سے یا کسی بھی اورناجائز وجہ سے رکاوٹ بن رہے ہیں تو یہ گناہ ہے۔ وہ اپنی بچیوں کے اخلاقی اور دینی حقوق کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ اسی طرح معاشرہ بحیثیت مجموعی بھی بعض اوقات رکاوٹ بنتا ہے۔ مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ جہیز وغیرہ اور دیگر رسومات اس مالی طو پر غیر مستحکم خاندانوں کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش بن گئے ہیں۔ اس میں ہم سب گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اللہ کے حضور جواب دہ ہوں گے۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author