شادی كی غرض سے اسلام قبول كرنا

سوال:

ميں گزشتہ ايك سال سے مشرق بعيد كے ايك ملك ميں زير تعليم ہوں۔ تقريبا چھ ماہ پہلے كی بات ہے كہ يہاں ميری ايك بدھ لڑكی سے دوستی ہو گئی۔ يہ دوستی مذيد بڑھ گئی اور محص دوستی كی حد تك محدود نہ رہی۔ اب وه لڑكی كچھ جذباتی ہو چكی ہے اور اس كا خيال ہے كہ وہ مجھ سے شادی كرنا چاہتی ہے اور ميرے ساتھ پاكستان جا كر رہ سكتی ہے۔ ميرے ذہن ميں آتا ہے كہ اولا تو ہمارا تعلق بہت ہی مختصر مدت كا ہے۔ مجھے جلدی ميں يہ فيصلہ نہيں كرنا چاہيے۔ دوسرا اہم نكتہ يہ ہے كہ وہ بدھ ہے۔ ميں يہ چاہتا ہوں كہ وہ اسلام كو سمجھ كر اور اس كی حقانيت كی قائل ہو كر مسلمان ہو نہ يہ كہ محض ايك مسلمان سے شادی كرنے كی خاطر اسلام قبول كرے۔ اسے اسلام قبول كرتے ہوئے مجھ سے شادی كا سوال ذہن سے نكال دينا چاہيے۔ اگر يہ ہوتا ہے تو ميں شادی كے لئے تيار ہوں۔ ليكن ميرے كچھ دوستوں كا خيال ہے كہ مجھے اس سے شادی كر لينی چاہيے۔ ان كا كہنا ہے كہ اس طرح اس كے لئے سچے دل سے اسلام قبول كرنے اور آخرت ميں كاميابی حاصل كرنے كی راہ نكل آئے گی۔ اور يہ بات پھر ميری اخروی بھلائی كا سبب بھی بنے گی۔ ان كا خيال ہے كہ مجھے اس سے شادی كا وعدہ كر لينا چاہيےتاكہ وہ مسلمان ہو جائے۔ ميرا سوال يہ ہے كہ اس مسئلہ پر كس كی رائے درست ہے؟ ميری يا ميرے دوستوں كی؟ ميرا دوسرا سوال يہ ہے كہ كيا ميں يہ سوچنے اور فيصلہ كرنے ميں اسے مركزی حيثيت دينے ميں حق بجانب ہوں كہ ايك لڑكی صرف مجھ سے شادی كرنے كی خاطر اسلام قبول كرے گی اور مجھے اس كا اجر بھی ملے گا؟


جواب:

آپ کے سوال کے پہلے جز کا جواب یہ ہے کہ آپ کے دوستوں کا نقطہ نظر عملی زاویے سے زیادہ درست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لوگوں کی ہدایت کے اسباب اور ذرائع مختلف رکھے ہیں اور ذہنی واعتقادی طور پر اسلام کی حقانیت کا قائل ہونے کے علاوہ بہت سے دوسرے نفسیاتی، جذباتی اور معاشرتی عوامل بھی دنیا بھر میں لوگوں کے اسلام سے متعارف ہونے اور اسے قبول کرنے کا ذریعہ بنتے رہے ہیں۔ اس لیے اگر کسی غیر مسلم خاتون کا کسی مسلمان مرد کے ساتھ جذباتی تعلق اس کے اسلام قبول کرنے کا ذریعہ بنتا ہے تو اس میں اس وجہ سے ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ یہاں اسلام براہ راست اور اصلاً مقصود نہیں، بلکہ امید رکھنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ اسلام سے متعارف ہونے اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد فکری واعتقادی سطح پر اس کی تعلیمات کو سمجھنے اور حقیقی ایمان سے بہرہ ور ہونے کا موقع اور توفیق بھی اللہ تعالیٰ اس خاتون کو ضرور عنایت فرمائیں گے۔

جہاں تک کسی خاتون سے شادی کے فیصلے کو اس کے قبول اسلام کی امید پر مبنی کرنے کا تعلق ہے تو یہ بھی فی نفسہ ایک اچھا اور مثبت جذبہ ہے اور اس جذبے سے کسی خاتون سے شادی کرنا یقینا اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑے اجر کا مستحق بنائے گا، البتہ اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ میاں بیوی کے مابین نباہ اور شادی کے کامیاب ہونے کے لیے شخصی پسندیدگی اور ذوق ورجحان اور مزاج کی موافقت کا جو عنصر لازمی طور پر درکار ہوتا ہے، وہ بھی موجود ہے یا نہیں۔ اگر طبعی محبت اور مزاج کی موافقت مفقود ہو او رخدشہ ہو کہ بعد میں نباہ نہیں ہو سکے گا تو پھر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

answered by: Ammar Nasir

About the Author

Ammar Khan Nasir


Mr Ammar Khan Nasir was born in December 1975 to a renowned religious and scholarly family in the town of Gakhar Gujranwala, Pakistan. His grandfather Mawlana Muhammad Sarfaraz Khan Safdar is considered the academic voice of the Deobandi School in the country. His father, Mawlana Zahid al-Rashidi, is a famous religious scholar known for his sound and balanced religious approach.

Mr Ammar Khan Nasir obtained his elementary religious education in Madrasa Anwar al-Uloom Gujranwala. He obtained Shahada Alamiyyah from Madrasa Nusrat al-Uloom Gujranwala in 1994. Then he started pursuing conventional studies and obtained Masters Degree in English Literature from the University of the Punjab in 2001. He has worked as Assistant Editor of the Monthly Al-Shari’ah published from Gujranwala from 1989 to 2000. Since then he has been serving as the Editor of the journal. He taught the Dars-e Nizami course at Nusrat al-Uloom from 1996 to 2006. He joined GIFT University Gujranwala in 2006 where he teaches Arabic and Islamic Studies to graduate and MPhil classes.

Mr Ammar Khan Nasir has many academic works to his credit. His first work, “Imam Abū Hanifa and Amal bil Hadith” (Imam Abū Hanifa and Adherence of Hadith) appeared in print in 1996. In 2007 he academically reviewed the recommendations of the Council of Islamic Ideology, Government of Pakistan, regarding Islamic Punishments. His research on the issue was later compiled and published by Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, Lahore entitled “Hudood-o Ta’zeeraat, Chand Aham Mabahis” (Discussions on Islamic Penal Code). His other research works include Masjid Aqsa ki Tarikh awr Haq-e Tawalliyat (History of the Sacred Mosque in Jerusalem and the Question of its Guardianship) and Jihad. His research articles on variety of religious issues continue appearing in the Monthly Ishraq Lahore, Monthly Al-Shari’ah, Gujranwala and Monthly Nusrat al-Uloom Gujranwala.

Mr Ammar Khan Nasir was introduced to Javed Ahmad Ghamidi in 1990. Since then he has been under his informal tutelage. In 2003 he joined al-Mawrid. He plans to work on and study and do research on the Farahi School from different academic angles. His works and articles can at accessed on http://www.al-mawrid.org, the official site of Al-Mawrid and at his personal site http://www.ammarnasir.org.