شادی میں والدین کی رضا مندی

سوال:

کیا شادی میں والدین کی رضا مندی ضروری ہے؟


جواب:

قرآنِ مجید نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے کہ نکاح معاشرے کے معروف کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی صالح معاشرے کے اندر اس معاملے میں جو ضوابط ہیں، جو روایات ہیں،جو رسوم و رواج ہیں، انھی کے مطابق اس ذمہ داری کو انجام پانا چاہیے۔ہمارے معاشرے میں اس ذمہ داری کو انجام دینے کے لیے نہ صرف والدین سرگرم ہوتے ہیں ، بلکہ دیگر اعزہ اوراحباب بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔اسی سے رشتوں میں حسن پیدا ہوتاہے، اسی سے اچھی معاشرت وجود میں آتی ہے اور یہی ہمارا معروف ہے۔

اگر کسی موقع پر والدین اپنے بچوں کی ترجیحات کو یکسر نظر انداز کردیں اور ناجائز طور پر اپنی مرضی ان پر مسلط کرنا چاہیں تواس معروف کی خلاف ورزی جائز ہو سکتی ہے،لیکن اس معاملے میں غلط یا صحیح کا تعین کسی معاملے کو سامنے رکھ کرہی کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی موقع پر والدین کا موقف درست ہو اور کسی موقع پر اولاد کی بات ٹھیک ہو ۔

صحیح بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اولاد اور والدین دونوں ہی کو اعتدال کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ نہ والدین کو سختی اور جبر سے کام لینا چاہیے اور نہ اولاد کونافرمانی اور انحراف کی روش اختیار کرنی چاہیے۔ باہمی موافقت اور محبت سے یہ معاملہ انجام پانا چاہیے۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author