شادی اور کفاءت

سوال:

میں نے ڈاکٹریٹ کیا ہوا ہے اور میں گورنمنٹ کالج میں لیکچرر ہوں۔ میں پچاس ہزار روپے کماتی ہوں۔ میرے ساتھ ایک ناگوار واقعہ یہ ہوا ہے کہ میں طلاق یافتہ ہوں۔ وجہ یہ ہوئی کہ میرے شوہر کو بیوی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ گھر والوں نے زبردستی شادی کی۔ وہ لوگ کافی امیر تھے۔ کئی سال ہو گئے ہیں۔

اب میرا ایک رشتہ ہے۔ لڑکے نے صرف انٹر کیا ہے۔ سپلائی لائن۔ آمدنی بیس ہزار۔ سب کہتے ہیں کہ اس سے نہیں کرو شادی۔ گھر بھی رینٹ پہ ہے۔ کیا انسان مفلسی دیکھ کر شادی نہ کرے جبکہ وہ ایزی سٹیٹس پہ ہو۔


جواب:

سوال امیری اور غریبی کا نہیں ہے۔ اصل سوال فیملی کے کلچر کے فرق کا ہوتا ہے۔ اصل مطلوب موافقت ہے۔ آپ کی اور اس کی آمدنی میں کافی فرق ہے۔ ہمارے معاشرے کے مرد بیوی پر فائق رہنا چاہتے ہیں۔ جب وہ کسی پہلو سے بیوی سے کم ہوں تو یہ چیز ان کے رویوں کو متوازن نہیں رہنے دیتی اور وہ کسی نہ کسی پہلو سے اوور ری ایکٹ کرنے لگ جاتے ہیں جس سے گھریلو زندگی ناخوشگوار ہو جاتی ہے۔ تعلیم کا فرق ذوق کا فرق بھی پیدا کر دیتا ہے اور سوچ کا فرق بھی۔ یہ چیز بھی عدم موافقت کا سبب بن سکتی ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اس شخص کی شخصیت کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ اگر آپ یہ سمجھیں کہ آپ کے اور اس کے علمی، ذہنی اور مالی سٹیٹس کا فرق اس کی شخصیت کے دوسرے محاسن میں ایڈجسٹ ہو سکتا ہے تو رشتہ کر لیجیے اور اگر نہیں تو بہتر ہے کہ یہ شادی نہ کی جائے۔ شرعی اعتبار سے شادی ہو سکتی ہے ۔ لیکن فقہا نے ہم رتبہ ہونے کو مناسب اہمیت دینے پر اصرار کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شادی کو ناکام ہونے سے بچانا بھی شریعت کے مقاصد کا حصہ ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author