شادی سے پہلے جنسی تعلقات

سوال:

کیا شادی سے پہلے آدمی کا اپنی ہونے والی بیوی سے جنسی تعلق قائم کرنا ناقابل معافی جرم یعنی گناہ کبيرہ ہے۔


جواب:

شادی سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی سے بھی جنسی تعلق قائم کرنا زناہی ہے اور بے شک یہ گناہ کبیرہ ہے۔ اس کے بارے میں قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے کہ :

''اور جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو سوائے حق کے ہلاک نہیں کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جو کوئی یہ کام کرے گا، وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا، قیامت کے روز اُس کو مکرر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔ سوائے اس کے کہ کوئی(ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو۔ ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔''(الفرقان٢٥:٦٨-٧٠)
ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ بے شک زنا گناہ کبیرہ ہے اور اس کی سزا جہنم کا ابدی عذاب ہو سکتی ہے، لیکن اگر اللہ چاہے تو یہ سچی توبہ اور اصلاح سے بالکل معاف بھی ہو سکتا ہے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author