شيطان پر پابندياں

سوال:

میں چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ برائے مہر بانی ان کے جوابات ارسال کر دیں۔

۱۔ شیطان کے سجدے پر انکار کرنے پر اﷲ تعالیٰ نے لعنت کر کے جنت سے نکال دیا۔ پھر ابلیس آدمؑ اور حوا کو بہکانے کے لیے جنت میں کیونکر پہنچ گیا؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ شیطان کی رسائی جنت تک بھی ہے اور رہے گی؟

۲۔ شیطان نے اﷲ تعالیٰ سے قیامت کے روز تک کی مہلت مانگی جو اسے دے دی گئی۔ پھر شیطان جو رمضان میں جکڑ لیا جاتا ہے وہ کیا ہے؟ کیا یہ دی گئی مہلت کی خلاف ورزی نہیں؟


جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں۔

۱۔جس باغ میں داخل ہوکرشیطان نے آدم وحوا کو بہکایا تھا وہ فردوس اور عدن کی جنت نہیں تھی جس کا وعدہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے اور جو قیامت کے بعد اسکے بندوں کودی جائے گی۔ آدم وحوا کا قیام اسی زمین پر اسی باغ میں تھا ۔ باغ کوعربی میں جنت ہی کہا جاتا ہے۔ اس لیے یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شیطان آخرت میں قائم ہونے والی جنت میں کیسے داخل ہوگیا۔کسی زمین باغ میں شیطان کا داخل ہوناکوئی عجیب بات نہیں۔

۲۔شیطان نے اﷲ تعالیٰ سے جو مہلت مانگی تھی وہ اپنا مشن جاری رکھنے کی مہلت تھی اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ شیطان یا اس کی ذریت پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔قرآن کریم تو یہ بھی بیان کرتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت آسمانوں کو ہر قسم کی شیطانی دراندازی کے لیے بند کردیا گیا تھا۔ دیکھ لیں کہ یہ بھی ایس نوعیت کی ایک پابندی ہے۔اسی طرح کا معاملہ رمضان میں ہوتا ہے۔رمضان میں شیاطین کو جکڑ لیے جانے سے مراد یہی ہے کہ ان کے بہکانے کی صلاحیت کو بہت محدود کردیاجاتاہے۔ یہ ایک نوعیت کی پابندی ہے جورمضان کے بعد ہٹالی جاتی ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author