شفاعت اور نبی صلی اﷲ علیہ وسلم

سوال:

مسئلہ شفاعت پر آپ کے مضمون (اشراق دعوہ ایڈیشن ، مئی 2006 ، کراچی) میں دلائل پڑ ھ کر شروع میں بہت خوشی ہوئی لیکن صفحہ 43 کی لائن نمبر 4 سے 15 کا مطالعہ کیا توبڑ ی نا امیدی ہوئی اس لیے کہ وہاں آپ نے شفاعت کے معاملے میں نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کا نام لے کر اﷲ تعالیٰ کے اختیارات میں ان کو شامل کر دیا ہے جو کہ قرآن سے کسی بھی طرح ثابت نہیں ہے ۔مزید یہ کہ اگر ایسا ہوتا تو دین اسلام تو پھر حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوتا ہے تو ان کا نام کیوں نہ لیا جائے۔اس طرح آپ نے قرآن سے آگے بڑ ھ کر رسول اﷲ کا نام لے کر دراصل ایک متعصب اسلام کی تصویر پیش کی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آپ ؐ کے امتی ہیں۔اسی طرح مقامِ محمود کو آپ نے شفاعت سے متعلق کیا ہے جس کا کوئی علم ہمیں قرآن سے نہیں ہوتا۔دوسری بات یہ کہ اس طرح شفاعت میں نام لے کر آپ لوگوں کو اﷲ کے بھروسے سے نکال کر اﷲ کے بندوں کے بھروسے میں داخل کر رہے ہیں جو کہ قرآن کی رو سے کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ۔اور اس طرح نام لینے سے دراصل شرک کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔دیکھئے سورۂ بقرہ کی آیت 48۔ جب پیغمبر خودلوگوں کی ہر دوسری امید توڑ رہے ہیں تو وہ اپنے بارے میں یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں ایسا کروں گا۔اگر کوئی شخص اسی طرح کسی اور کا نام لے گا تو اُس کا آپ کیسے انکار کریں گے؟


جواب:

برادرم توفیق صاحب ، آپ میرے مضمون میں دیکھ سکتے ہیں کہ میرا نقطۂ نظر مکمل قرآن ہی سے ہے۔ تاہم جب کوئی بات صحیح احادیث میں بیان ہوتی ہے اور وہ قرآن کریم اور علم وعقل کے مسلمات کے خلاف بھی نہیں ہے تو میں اُسے بھی مانتا ہوں کیونکہ یہی ائمہ محدثین کے قائم کردہ معیارات ہیں۔ چنانچہ صحیح احادیث کی بنیاد ہی پر میں نے شفاعت کے معاملے میں نبی صلی اﷲعلیہ وسلم کا نام لیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ میں اپنے مضمون میں اس بات کے کافی دلائل قرآن سے دے چکا ہوں کہ شفاعت ہو گی (مثلاً سورۂ نبا ، آیت 38)۔ قرآن کے اس بیان کے بعد کوئی اس کو چیلنج نہیں کر سکتا۔لیکن قرآن ہی یہ بات بھی واضح کرتا ہے کہ اﷲتعالیٰ اس شفاعت کی اجازت جس کو دیں گے صرف وہی شفاعت کر سکے گا اور جس کے لیے دیں گے اسی کے لیے یہ ہو گی اور وہ انصاف سے ہٹ کر بھی ہر گز نہ ہو گی۔جب یہ بات قرآن ہی سے بالکل واضح ہے کہ شفاعت ہو گی توسوال یہ ہے کہ کیا نعوذباﷲ پھر ابو جہل اور ابو لہب یہ شفاعت کریں گے؟ ہر گز نہیں ، بلکہ صحیح احادیث ہمیں اس کا جواب دیتی ہیں اور قرآن اور عقلِ عام بھی اس کی گواہی دیتے ہیں کہ شفاعت کا یہ تاج اگر کسی کو پہنایا جائے گا تو وہ صرف پیغمبر اور صالحین ہی ہو سکتے ہیں ۔رسول اﷲ نے بھی یہ فرمایا ہے کہ یہ اُن کا ایک خصوصی اعزاز ہو گا جو اﷲتعالیٰ اُن کو عطا فرمائیں گے اور مجھے یہ بات قرآن کی رو سے کسی طرح بھی غلط نہیں لگتی۔جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ اگر کوئی شخص اس معاملے میں کسی اور کا نام لے تو میرے اصول یہاں بھی وہی ہوں گے جن کے تحت میں نے رسول اﷲ کا نام لیا ہے یعنی کیا کسی صحیح حدیث میں ایسی کسی ہستی کے بارے میں بتایا گیا ہے؟

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author