شرک کی دلیل

سوال:

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شرک کی کوئی دلیل نہیں اتاری گئی، یہ بات ہندوؤں کی کتاب گیتا اور دیگر کتابوں ، وحدت الوجود کے تناظر میں خدا کو ماننے والوں پر کس طرح لاگو ہوتی ہے؟ کیا صرف عقلی دلیل کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ـ"ما لم ينزل به سلطٰناً"؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیے۔


جواب:

یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی کسی کتاب میں شرک کے حق میں کوئی بات کبھی نہیں کہی گئی۔ یہ بات نہ صرف قرآن مجید کے بارے میں درست ہے بلکہ اُن دیگر مذہبی صحیفوں کے بارے میں بھی ٹھیک ہے جو قرآن سے قبل دیگر انبیا خاص کر انبیاے بنی اسرائیل پر اتارے گئے۔ تورات و انجیل اور دیگر صحفِ سماوی جن کا منزل من اللہ ہونا قرآن میں بیان ہوا ہے، شرک کی تردید ان کا بنیادی موضوع رہا ہے۔ اس لیے شرک کے حق میں کوئی استدلال ان میں نہیں پایا جاتا۔ اس حقیقت کو قرآن نے بار بار بیان کیا ہے۔

جہاں تک ہندوؤں کی مقدس مذہبی کتابوں کا تعلق ہے جن میں سے بعض کا ذکر آپ نے فرمایا ، ان کے بارے میں پہلی بات یہ جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید انہیں بحیثیت الہامی صحائف کے پیش نہیں کرتا۔ دوسری بات اس حوالے سے یہ سمجھ لینی چاہیے کہ جن کتابوں کا آپ نے حوالہ دیا ہے، ان کی بالعموم یہ تاریخی حیثیت بیان بھی نہیں کی جاتی کہ وہ آسمانی کتابیں ہیں۔ مزید برآں یہ کہ یہ کتابیں زمانہ قبل از تاریخ میں ایک طویل عرصے تک زبانی روایت کے طور پر آگے منتقل ہوتی رہی ہیں۔ اس لیے اگر کسی وجہ سے اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ یہ الہامی کتب ہی تھیں تب بھی اس بات کا بہت زیادہ امکان موجود ہے کہ ان کتابوں میں بہت کچھ تبدیلی اور اضافے ہوچکے ہوں۔اس لیے اگر ان کتابوں میں کچھ باتیں مشرکانہ نوعیت کی پائی بھی جاتی ہیں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قرآن مجید کی بات غلط ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author