شراب کی حرمت کی اصل علت

سوال:

میں امریکا میں الکحل کی پابندی کے حوالے سے ایک مضمون لکھ رہا ہوں۔ اس سلسلے میں مجھے ایک استدلال سے سابقہ پیش آیا ہے اور مجھے اس کا جواب دینا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ایک آدمی الکحل استعمال کرتا ہے اور سڑک پر کسی کے لیے نقصان کا باعث نہیں بنتا تو اسے الکحل کے استعمال کے حق سے محروم کرنا کیسے درست ہے؟


جواب:

آپ کو یقینا معلوم ہوگا کہ مغرب میں قانونی طور پر کسی فرد کے کسی عمل کو ممنوع ٹھہرانے کا کوئی جواز نہیں ہے، جب تک وہ فعل دوسروں کے جسم وجان کے ضرر رساں یاان کے کسی حق کو تلف کرنے کا باعث نہ ہو۔اس کے برعکس اسلام میں وہ تمام چیزیں بھی ممنوع ہیں جو انسان کے اخلاقی وجود کے منافی ہیں۔ شراب کوسورۂ بقرہ (2) کی آیت 219 میں 'اثم' یعنی گناہ قرار دیا گیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے 'اثم' کے لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

''...لفظ 'اثم' اخلاقی مفاسد اور گناہوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔'' (تدبر قرآن 1/515)

اسی طرح سورۂ مائدہ(5)کی آیت 90 میں اسے 'رِجْسٌ' یعنی گندگی اور عمل شیطان قرار دیا گیا ہے۔ یہ آیت بھی شراب کے اخلاقی قباحت ہونے ہی کو واضح کرتی ہے۔

سورۂ نساء(4) کی آیت 43 سے واضح ہوتا ہے کہ شراب کی حرمت کا اصل باعث اس کا نشہ آور ہونا ہے۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ جب تم نشے میں ہو تو نماز نہ پڑھو۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ شراب کی حرمت کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس آیت میں نشے اور جنابت، دونوں کو نماز کے لیے مانع قرار دیا گیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کے اشتراک کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

''نشہ اور جنابت دونوں کو ایک ساتھ ذکر کرکے اور دونوں کو یکساں مفسد نماز قرار دے کر قرآن نے اس حقیقت کی طرف رہنمائی فرمائی ہے کہ یہ دونوں حالتیں نجاست کی ہیں ، بس فرق یہ ہے کہ نشہ عقل کی نجاست ہے اور جنابت جسم کی۔ شراب کو قرآن نے جو 'رجس' کہا ہے یہ اس کی وضاحت ہو گئی۔'' (تدبر قرآن 2/306)

میں نے قرآن کا منشا بیان کر دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اسلام کا نقطۂ نظر آپ کے سامنے آ گیا ہو گا ، لیکن مغرب میں پہلے اس اصول کو منوانا ضروری ہے کہ انسان کے اخلاقی وجود کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ جب تک یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ، قرآن کا یہ موقف ان کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author