شراب کی حرمت کی بنیاد

سوال:

قرآن مجید میں چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان میں شراب شامل نہیں ہے۔ شراب کے بارے میں بس یہ کہا گیا ہے کہ تم نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔اس کے علاوہ شراب سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن ایسا کیوں ہے کہ مسلمان شراب کو خدا کی حرام کردہ دوسری سب چیزوں سے زیادہ حرام سمجھتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ اسلام شراب کی حرمت سے شروع ہوتا ہے اور عورتوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگانے پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے؟


جواب:

قرآن مجید نے حلت و حرمت کے حوالے سے جو اصولی بات کی ہے، وہ درج ذیل ہے۔ ارشاد باری ہے:

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ.(المائدہ٥:٤)
''وہ پوچھتے ہیں: ان کے لیے کیا چیز حلال ٹھہرائی گئی ہے۔ کہو تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ٹھہرائی گئی ہیں۔''

یہودونصاریٰ نے حلت و حرمت کے حوالے سے افراط و تفریط کا رویہ اختیار کیا ہوا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر انھیں ایمان کی دعوت دیتے ہوئے، حلت و حرمت کے بارے میں اسی حقیقت کو بیان فرمایا:

وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ، وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰۤئِثَ، وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ، وَالْاَغْلٰلَ التَِّیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ.(الاعراف ٧ : ١٥٧)
''(یہ پیغمبر) اُن کے لیے طیبات کو حلال اور خبائث کو حرام ٹھہراتا ہے اور اُن کے وہ بوجھ اتارتا اور بندشیں توڑتا ہے جو اب تک ان پر رہی ہیں۔''

اصل بات یہ ہے کہ دین چونکہ نفس انسانی کا تزکیہ کرنا چاہتا ہے،اس لیے وہ اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ باطن کی تطہیر کے ساتھ کھانے اور پینے کی چیزوں میں بھی خبیث و طیب کا فرق ملحوظ رکھا جائے۔

اسلام میں شراب کی ممانعت کا حکم اسی بنا پر ہے کہ یہ چیز طیبات میں نہیں آتی، بلکہ یہ خبائث میں آتی ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا ہے:

یٰۤاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا، اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ، فَاجْتَنِبُوْہُ، لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ.(المائدہ٥: ٩٠)
''ایمان والو ،یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، سب گندے شیطانی کام ہیں، اس لیے ان سے الگ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''

چنانچہ آپ کا یہ کہنا کہ بس شراب سے بچنے کا کہا گیا ہے، اسے حرام تو نہیں ٹھہرایا گیا، یہ بات درست نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ صرف طیبات ہی حلال ہیں اور شراب طیبات میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گندہ شیطانی کام ہے، چنانچہ اس کے پینے پلانے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان کو اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

رہی یہ بات کہ ''اسلام شراب کی حرمت سے شروع ہوتا ہے اور عورتوں پر طرح طرح کی پابندیاں لگانے پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے'' یہ کسی حقیقت ناشناس اور لا ابالی شخص ہی کا جملہ ہو سکتا ہے۔ ایسے شخص سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ اگر اسے اس طرح کے جملے کہنے کا محض شوق ہے تو وہ ضرور کہا کرے، بس یہ ذہن میں رکھے کہ اللہ نے ہر بات کا حساب لینا ہے،لیکن اگر اس کے دل میں حقیقت جاننے کا شوق ہے تو پھر وہ اسلام کا باقاعدہ مطالعہ کرے، ان شاء اللہ اس کا یہ خیال بدل جائے گا۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author