سفلی علوم اور پیشن گوئی

سوال:

غامدی صاحب نے ایک ٹی وی پروگرامیں کہا کہ ایک مورخ آپ کو ماضی کے بارے میں بتاتا ہے۔ ایک اخبار نویس آپ کو حال کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔ ایک سفلی علوم کا ماہر آپ کو مستقبل کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی شرک نہیں۔ میں غامدی صاحب کا احترام کرتا ہوں۔ میں انہیں دین کا ایک داعی سمجھتا ہوں۔ لیکن ان کی اس بات نے مجھے بہت پریشان کیا ہے۔ میرے اس بارے میں کچھ سوالات ہیں۔

1۔ سفلی علوم کے ماہر کو کیا کہتے ہیں؟

2۔ کاہن کیا ہوتا ہے؟

3۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ کسی کو پتا نہیں کہ وہ کل کیا کرے گا۔ تو پھر ایک سفلی علوم کے ماہر کو اپنے بارے میں سب کچھ معلوم کرنا چاہیے۔ وہ تو دوسروں کو بھی مستقبل کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔

4۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے ستاروں پر یقین کیا اور جو کاہن کے پاس گیا اور اس کے بات پر یقین کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

5۔ سفلی علوم کے جاننے کے اسباب و ذرائع کیا ہیں؟

6۔ اگر اسباب نہیں ہیں تو پھر غیب کے علم کا دعوی کس بنیاد پر کرتا ہے؟ غامدی صاحب کے طرح کے ایک داعی حق اس بات کو کیوں قبول کرتے ہیں؟

اللہ مجھے او ر آپ کو حق سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


جواب:

آپ نے استاد گرامی کے جس لیکچر کی روشنی میں سوال کیا ہے وہ سردست ہمارے پاس موجود نہیں۔ اس لیے اس خاص پس منظر میں تو ہم متعین طور پر آپ کے سوال کا جواب نہیں دے سکتے، البتہ اس ضمن میں کچھ بنیاد ی گزارشات پیش خدمت ہیں۔

ہر وہ علم جس میں شیاطین سے مدد مانگی جائے اور مسلمہ اخلاقی اقدار کو پامال کیا جائے وہ غلط ہے۔ سفلی علوم کا شمار بھی ایسی ہی چیزوں میں ہوتا ہے۔ ان کے ذرائع بھی ناپاک ہوتے ہیں،اور ان کے مقاصد بھی۔ اس لیے اس حوالے سے اصولی بات یہ ہے کہ ان کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ اپنے تمام سوالوں کے جوابات اسی اصولوں کی روشنی میں حاصل کرسکتے ہیں۔ البتہ دوچیزیں اس حوالے سے سمجھنے کی ہیں، ایک یہ کہ سفلی علوم کے ماہرین کے پاس جاکر اپنے مقاصد کی تکمیل کروانا ایک غلط رویہ ہے۔ یہ انسان کو شرک، تواہم پرستی اور انسانوں کو نقصان پہنچانے جیسے مکروہ اعمال تک لے جاتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مختلف علوم کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے بارے میں کچھ نہ کچھ بات کہنے کی صلاحیت کچھ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر Ultrasound Technologyکو استعمال کرکے ڈاکٹر ماں کے پیٹ میں موجودبچے کی جنس کو قبل از پیدائش ہی بتاسکتے ہیں۔ یہی معاملہ محکمہ موسمیات کا ہے، جو Satelite Technology کو استعمال کرکے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرسکتے ہیں۔ اس سے اﷲ تعالیٰ کے علم غیب کی کوئی نفی نہیں ہوتی کیونکہ یہ قدرت اور صلاحیت بھی اﷲ تعالیٰ کی پیداکردہ ہے۔

اسی طرح ہماراتجربہ ہے کہ بعض لوگ اپنی نفسی صلاحیتوں کو استعمال کرکے یا جن وشیاطین کی مدد سے کچھ ایسی چیزوں کی اطلاع دے دیتے ہیں جن سے عام لوگ واقف نہیں ہوتے۔اسی طرح عام مشاہدہ ہے کہ مختلف علوم کے تجزیہ کام مثلاً ماہرین معیشت اور سیاست اپنی عقلی صلاحیتوں کو استعمال کرکے مستقبل کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض بالکل ٹھیک بھی ثابت ہوجاتی ہیں۔ مستقبل کی ایسی کوئی اطلاع نہ شرک کہلائی جاسکتی ہے ، نہ اس کے حرام ہونے کا فتویٰ دیاجاسکتا ہے۔ البتہ پیش گوئی کے عمل میں مشرکانہ فعل کیاگیا ہے تو وہ عمل یقیناً ناجائز ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ ایسی کسی اطلاع سے نہ اﷲ تعالیٰ کے علم غیب کی نفی ہوتی ہے اور نہ اپنی ذات میں مستقبل کی اطلاع دینا مشرکانہ عمل ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا ہے کہ کوئی شخص اﷲ تعالیٰ کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ ہرگز نہیں کرسکتا، سوائے اس کے جو وہ چاہے (البقرہ2:آیت نمبر255)۔ اس آیت میں موجود استثنا یہ بتاتا ہے کہ جب جب کسی شخص کو کسی بھی ذریعے سے کسی بات کا علم ہوتا ہے تو یہ اﷲ تعالیٰ کے اذن ہی سے ہوتا ہے۔ رہا اﷲ تعالیٰ کاعلم غیب ،تو یہ وہ علم کلی ہے جو کسی چیز کی ہرہرپہلوکا احاطہ کیے ہوتا ہے اور تمام اسباب سے بلند ہوکر حاصل ہوتا ہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author