صوفیا کے محیر العقول واقعات

سوال:

قدرت اللہ شہاب صاحب کی کتاب ''شہاب نامہ'' کے آخری باب میں بعض ایسی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر ان کا اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ حضرت بی بی فاطمہ کی روح طیبہ کو اجازت مرحمت فرمائیں کہ وہ میری ایک درخواست اپنے والد گرامی کے حضور میں پیش کر کے منظور کرادیں اور پھر دعا کا قبول ہو جانا۔ اسی طرح ان کو ایک خط موصول ہونا اور پھر اسی خط کا مختلف جگہوں پر پایا جانا۔ یہ اور اس قسم کی اور بھی باتیں جو وہاں درج ہیں،سب سمجھ سے بالاتر ہیں۔ ازراہ کرم اس کی وضاحت کر دیں؟


جواب:

آپ کو ایسی باتیں اجنبی محسوس ہو رہی ہیں، حالاں کہ ہمارے سب صوفیا ایسی باتیں بیان کرتے ہیں۔ ان کی کتابیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ آپ بڑے بڑے صوفیا کی کتابیں پڑھیں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ ان کے مقابلے میں ان واقعات کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ ان کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ معراج پر جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتے ہیں، دنیا کا نظم و نسق چلاتے ہیں، راستے میں چلتی ہوئی چیونٹیاں بھی ان سے گفتگو کرتی ہیں، حتیٰ کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر کوئی کالی چیونٹی بھی اندھیری رات میں کسی سخت پتھر پر چلتی اور میں اس کی آواز نہ سنتا تو بے شک، میں یہی کہتا کہ مجھے فریب دیا گیا ہے یا میں دھوکے میں رہا ہوں۔ہمارے جلیل القدر صوفی شاہ ولی اللہ اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے قائم الزماں کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ اس سے میری مراد یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے نظام خیر میں سے کسی چیز کا ارادہ کریں گے تو اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے آلہ کار مجھے بنائیں گے۔ صوفیا کی کتب کے اس مطالعے کے بعد آپ کو محسوس ہو گا کہ قدرت اللہ شہاب صاحب تو اس معاملے میں طفل مکتب ہیں۔

میرے نزدیک جو آدمی بھی ان علوم میں دل چسپی لینا شروع کر دیتا ہے یا ایک مرتبہ اپنے آپ کو ان چیزوں کے حوالے کر دیتا ہے تو پھر اس کے بعد شیاطین جن اس کے ساتھ کھیلنا شروع کردیتے ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور اپنے آپ کو بالکل صحیح علم پر قائم رکھنا چاہیے۔ ایسی چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت پر پرکھنا چاہیے جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔

موجودہ دور میں بھی جب ایک مذہبی رہنما نے ایسی ہی کرامات بیان کرنا شروع کیں تو ہمارے ایک دوست نے بڑی دل چسپ بات کہی کہ میں جب قدیم بزرگوں کے محیر العقول واقعات سنتا تھا تو خیال ہوتا تھا کہ یہ کیسے ہوئے ہوں گے، لیکن اب معلوم ہو گیا ہے کہ ایسے ہی ہوئے ہوں گے۔ (اگست ٢٠٠٤)

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author