سونے اور ريشم کی حرمت

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ سونا اور ریشم کیوں حرام ہیں؟ اس کی کیا حکمت ہے؟۲۔ اور یہ کہ یزید کا خروج ٹھیک تھا یا نہیں ۳۔ خلافت ملوکیت میں کیسے بدل گئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

آپ کے سوالات کے جواب درج ذیل ہيں:

١) سونے اور ريشم کی حرمت کا بيان متعدد احاديث ميں آيا ہے۔ چند احادیث درج ذیل ہیں:

''حضرت علی سے روايت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو ديکھا کہ وہ ريشم کو سيدھے ہاتھ ميں اور سونے کو الٹے ہاتھ ميں ليے ہوئے ہيں اور پھر فرمايا کہ اللہ تعالیٰ نے يہ دونوں چيزيں ميری امت کے مردوں پر حرام کردی ہيں۔''،(ابی داؤد،رقم4057)

''ريشم کا لباس اور سونا ميری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے ليے حلال ہے۔''، (ترمذی، رقم1720)

''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔''،(مسلم کتاب اللباس و زينت، باب سونے کی انگوٹھی کا مرد کو حرام ہونا)

جہاں تک ان کی چيزوں کے حرام ہونے کی حکمت کا تعلق ہے تو ہمارے نزديک ان چيزوں کی حرمت کی وجہ بعض اخلاقی مفاسد کا پايا جانا ہے۔ رسول اللہ عليہ وسلم نے مردوں کو اگر سونے اور ريشم کے استعمال سے روکا ہے تواس کا سبب يہ ہے کہ ان اشيا کا عام استعمال اپنے اندر تين پہلو ليے ہوئے ہوتا ہے: ايک اظہار شان اور تکبر ،دوسرے اسراف اور فضول خرچی اور تيسرے دنياکی زندگی اور اس کی زينتوں کو مقصود محض بنالينا۔ يہاں سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ خواتين کو ان کے استعمال کی کيوں اجازت دی گئی ہے۔ ہمارے نزديک اس کا سبب يہ ہے کہ ريشم کا لباس اور سونے کے زيورات بنيادی طور پر زينت کی چيزہيں۔ زيب و زينت اور سنگھار خواتين کی ضروريات ميں سے ايک ہے۔ خواتين حدل اعتدال ميں رہ کر جب ان چيزوں کو استعمال کرتی ہيں تو اس پر تکبر وغيرہ کا اطلاق نہ کيا جاسکتا ہے اور نہ کوئی اس کو تکبر سمجھتا ہے۔تاہم يہ واضح رہنا چاہيے کہ خواتين اگر ان چيزوں کو دوسروں کی تحقير کرنے اوراپنی بڑائی جتانے کا ذريعہ بناتی يا پھر اسراف و دنيا پرستی ميں مبتلا ہوتی ہيں تو ان اخلاقی مفاسد کا گناہ بہرحال ان کے سر ہوگا۔ رہے مرد تو نہ سونا اور ريشم ان کی زينت کی چيز يں ہيں اور نہ دنيا نے کبھی انہيں مردوں کے ليے باعث زينت سمجھا ہے، ان کی حيثيت ہميشہ اظہار شان کی چيزوں کی رہی ہے۔ يہی ان کی حرمت کی وجہ ہے۔

٢) يزید نے کوئی خروج نہیں کیا تھا بلکہ اس کے دور میں امام حسین نے خروج کیا تھا۔اسے عام طور پر واقعہ کربلا کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس حوالے سے ہم اپنا نقطہ نظر ایک سوال کے جواب میں ضمنی طور پر بيان کرچکے ہيں جو آپ درج ذیل ایڈریس پر ملاحظہ کرسکتے ہيں:

http://al-mawrid.org/pages/questions_urdu_detail.php?qid=1210&cid=559

٣) اس تيسرے سوال کے جواب میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ذريعے سے اللہ تعالیٰ نے عالمی سطح پر جو توحيدی انقلاب سرزمین عرب میں برپا کيا تھا، اس کے نتيجے ميں کئی اور انقلابات ايسے وجود میں آئے جو اپنی نوعيت کے اعتبار سے خلاف زمانہ تھے۔ مثلاً انسانوں کی طبقات میں تقسيم کے بجائے انسانوں کی برابری، غلامی کا خاتمہ، عورتوں کے حقوق اور بادشاہت کے بجائے عوامی امنگوں کے مطابق حکومت کا قيام ۔ یہ آخری چیز وہ ہے جسے خلافت راشدہ کہا جاتا ہے۔

جيسا کہ ہم نے عرض کیا کہ یہ تمام چیزيں خلاف زمانہ تھيں، جنھيں صحابہ کرام کے زور ايمان نے دنيا ميں ظہور بخش ديا تھا۔مگرخلافت راشدہ کے آخری زمانے میں جب بنی کریم صلی اللہ عليہ وسلم کے تربيت يافتہ صحابہ کرام کی تعداد کم ہوتی چلی گئی اور عجمی نومسلموں کی تعداد بہت بڑھ گئی تو معاشرے ميں ان لوگوں کی اکثريت ہوگئی جن میں سابقہ عہد جاہليت کے تمدنی اثرات بہرحال ابھی تک باقی تھے۔ توحيد چونکہ قرآن مجيد کا بنيادی موضوع تھی اس ليے قرآن مجيد کے زور کی بنا پر توحيدی انقلاب تو باقی رہا ، مگر توحيد کے ذیل میں پيدا ہونے والے ديگر انقلابات کو کمزور ہوگئے۔ چنانچہ غلامی، خواتین کے حقوق اور معاشرے ميں ان کے مقام اور اسی طرح طرز حکومت کے بارے ميں معاشرے ميں وہی رويے فروغ پاتے چلے گئے جو عجم کی بادشاہتوں میں رائج تھے۔ يوں خلافت نام کی خلافت رہ گئی اور بنيادی طور پربادشاہت يا ملوکيت میں بدل گئی ۔

باقی جو متعين واقعات اس ضمن میں پيش آئے ہمارے نزديک ان کی اہميت ثانوی ہے۔ تاہم اگر آپ اس حوالے سے مطالعہ کرنا چاہتے ہيں تو دو کتابوں کو مطالعہ کرليجيے جو دو مختلف نقطہ نظر کا تفصيلی بيان ہيں۔ ايک خلافت و ملوکيت از مولانا مودودی اور دوسری خلافت معاویہ ويزيد از محمود احمد عباسی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author