سورہ نور کی آیت ٢٦ کا مفہوم

سوال:

سورہ نور کی آیت ٢٦ '' خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہوں گے اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہو ں گے'' اس آیت کے مطابق اس شخص کا کیا معاملہ ہو گا جس نے شادی سے پہلے کسی لڑکی سے محبت کی اور اس کے ساتھ جنسی عمل کے سوا اظہار محبت کے کئی طریقوں کو اختیار کیا۔ کیا ایسا شخص خبیث مردوں ہی کی صف میں آئے گا اور کیا اس کے مقدر میں خبیث عورت ہی ہو گی؟


جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ جس خاتون سے انسان بہت محبت رکھتا ہو، اس کے ساتھ بہت مخلص ہو اور بڑے سچے جذبے سے اس کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہو ، اس کو بھی کسی نسوانی اور جنسی پہلو سے دیکھتے رہنا ، چھونا، اس سے اسی نوعیت کی گفتگو کرنا اور اس کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا وغیرہ، یہ سب دینی اعتبار سے بالکل ناجائز ہے۔البتہ جس آیت کا آپ نے حوالہ دیا ہے، وہ آخرت سے متعلق ہے، اس کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں پر ہو سکتا ہے کسی کو اس کے کیے کی کوئی سزا دی جائے یا نہ دی جائے،لہٰذا آپ جہاں شادی کرنا چاہتے ہیں، وہاں خواہ مخواہ کوئی شک نہ کریں۔ اپنی معلومات کے مطابق تسلی رکھیں اور وہم میں نہ پڑیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author