ستر سے متعلق

سوال:

میں نے چند سوال بھیجے تھے جن کا جواب بھی مجھے مل گیا مگر مجھے ان کے بارے میں مزید تفصیل چاہیے۔ اس لیے میں سوالات دوبارہ عرض کرنا چاہتا ہوں جو کہ درج ذیل ہیں:

١ - کیا 'ستر' قرآن اور حدیث نے متعین کیا ہے ؟ کیا یہ فرض ہے ؟ کیا اس کی خلاف ورزی حرام ہے یعنی اگر ران کا کچھ حصّہ کھلا ہو تو یہ 'حرام' ہوگا ؟ اور کیا ایسی حالت میں نماز نہیں ہو سکتی ؟ فقہا اس کو کس دلیل کی بنا پر لازم قرار دیتے ہیں ؟ کیا تمام فقہا اس قانونی 'ستر' پر متفق ہیں یا ان میں کوئی اختلاف بھی پایا جاتا ہے ؟

٢- عورت کے ستر کے بارے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو حضرت اسما بنت ابو بکر سے مروی ہے - میرے علم کے مطابق کم و بیش سب ہی علما شاید اسی حدیث کی رو سے چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں کے سوا تمام جسم کو ستر قرار دیتے ہیں - کیا علماۓ امّت میں سے کسی اور نے بھی اس سے مختلف رائے کا اظہار کیا ہے ؟ کیا اس حدیث میں کوئی ضعف ہے یا اس کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے ؟

٣ - دین میں لباس کے حدود کو متعین نہ کرنے، اور صرف حیا کی تعلیم دے کر چھوڑ دینے میں کیا حکمت ہے ؟ کیونکہ انسانی معاشروں میں اس معاملے میں افراط و تفریط دیکھ کر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کے پاس اس معاملے میں فیصلہ کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور ہر معاشرے میں حیا کے اظہار اور اطلاق کے پیمانے الگ ہیں -

گزارش ہے کہ تینوں اجزاء کے تفصیلی جوابات عنایت کریں-


جواب:

امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ آپ کے سوالات کےجواب بالترتیب حاضر ہیں۔

1 – کیا ستر قرآن وحدیث نے متعین کیا ہے؟

ستر کا لفظ بطوراصطلاح میرے علم کی حد تک قرآن و حدیث میں نہیں ‏آیا۔ لیکن میرے نزدیک یہ ایک حقیقی اور عملی سوال ہے کہ نماز کے لیے کم از کم کتنا جسم ڈھانپنا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقی سوال ہے کہ جب مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے سامنے آ‏ئیں تو فحاشی کا اطلاق کس چیز پر ہوگا۔فقہا نے اسی سوال کا جواب دیا ہے ۔ ان کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ ا‏پنی رائے کی بنیاد کسی نص پر رکھتے ہیں۔ یہاں حضور کا ایک ارشاد اور عمل کی ایک شہادت اور اسی طرح قرآن مجید کی دو آیات بنائے بحث ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ ران ستر (کا حصہ) ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی بیان کی جاتی ہے کہ بعض لوگوں کی موجودگی میں آپ ران کے کچھ حصے سے کپڑا ہٹا ہوا تھا۔ان دونوں روایتوں کو مردوں کے ستر کے تعین میں بنائے استدلال بنایا گیا ہے۔عورتوں کے حوالے سے قرآن مجید کے ارشاد کہ وہ اپنی زینتیں ظاہر نہ کریں سواے ان کے جو ظاہر رہتی ہیں، سے استدلال کیا گیا ہے۔

میرے خیال میں یہ نصوص ستر کیا ہے کا جواب نہیں دیتیں۔ ستر کیا ہے کا جواب انبیا کی بنائی ہوئی تہذیبوں میں بالکل واضح ہے اور یہ نصوص اسی ستر کے تصور سے مطابقت رکھتی ہیں۔ مردوں اور عورتوں کے جسم، نفسیات اور ضرورتیں مختلف ہیں اسی لیے ان کے لباس بھی مختلف ہیں۔ اصل اصول یہ ہے کہ حیا کا جذبہ موسم کا لحاظ اور تزئین و آرائش تینوں پہلو سامنے رکھتے ہوئے لباس پہنا جائے اور اس میں جسم کی نمایش کے محرکات موجود نہ ہوں۔

2 - کیا یہ فرض ہے اور کیا اس کی خلاف ورزی حرام ہے یعنی اگر ران کا کچھ حصہ کھلا ہو تو یہ حرام ہو گا؟

فرض اور نفل اور حرام اور مکروہ کی اصطلاحات فقہا کے ہاں دین میں احکام کی درجہ بندی کے لیے وضع ہوئیں۔ اگر ہم ان کے ان اصطلاحوں سے متعلق فنی قواعد زیر بحث نہ لائیں اور صرف احکام کی دین میں اہمیت ہی کے پہلو کو پیش نظر رکھیں تو ہم ساتر لباس کو فرض ہی قرار دیں گے۔ اور اس کی خلاف ورزی حرام ہو گی۔

3 – فقہا اسے کس دلیل پر لازم قرار دیتے ہیں اور کیا سب اس پر متفق ہیں۔

پہلے سوال کے جواب میں ، متعلقہ روایات اور آیات کا ذکر کر چکا ہوں۔ فرض قرار دینے کی وجہ قرآن مجید کا حکم کا اسلوب ہے۔ مزید برآں فقہ کی کتابوں میں کچھ دوسری روایات کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ روایت کہ ایک کپڑے میں نماز نہیں ہوتی۔

4 – عورت کے ستر کے بارے میں ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جو اسما بنت ابی بکر سے مروی ہے ۔ میرے علم کے مطابق کم وبیش سب ہی علما اس حدیث کے مطابق چہرا، ہاتھ اور پا‎‎ؤں کے سوا تمام جسم کو ستر قرار دیتے ہیں۔ کیا علمائے امت میں کسی اور نے بھی اس سے مختلف رائے قائم کی ہے۔ کیا اس حدیث میں کو‏ئی ضعف ہے یااس کے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔

صاحب بدایۃ المجتہد کے استقصا کے مطابق اس بحث کا اصلا مدار قرآن مجید کی ‏آیت لا يبدين زينتهن کے حکم پر ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ حدیث اسما کا حوالہ دیا جاتا ہے لیکن استاد محترم نے ضعیف ہونے کے باعث اس روایت کو اپنی کتاب میں شامل نہیں کیا۔ اسی طرح استاد محترم نے دین کے مسئلے کی حیثیت سے بھی اسے موضوع بحث نہیں بنایا۔ البتہ پردے کے احکام میں جہاں محولہ بالا آیت زیر بحث آئی ہے وہاں انھوں جس طرح اس کی وضاحت کی ہے اس میں کم وبیش یہی بات سامنے آتی ہے۔ لیکن وہ اس تفصیل کے ساتھ ستر کو بیان نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بیان شریعت تک اپنے آپ کو محدود رکھا ہے اور فقہی اطلاقات ان کا موضوع نہیں ہیں۔

5 ۔ دین میں لباس کی حدود کی متعین نہ کرنے اور صرف حیا کی تعلیم دے کر چھوڑ دینے کی کیا حکمت ہے؟ انسانی معاشروں میں اس معاملے میں افراط و تفریط دیکھ کر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسان کے پاس اس معاملے میں فیصلہ کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے اور ہر معاشرے میں حیا کے اظہار اور اطلاق کے پیمانے الگ ہیں۔

میرا نقطہ نظر اس معاملے میں مختلف ہے۔ اللہ تعالی نے آل ابراہیم کا انتخاب کرکے اور اس میں دین کو ایک ثقافت اور تہذیب کی شکل دے کر انسان کی اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔ اسلام ایک نیا دین نہیں بلکہ اسلام کی صورت میں دین ابراہیمی ہی کی تجدید ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدعات کا خاتمہ کیا ہے اور کچھ تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ لیکن آپ کے اس کار تجدید کے نتیجے میں آپ سے آپ ان کے ہاں جاری ان چیزوں کی بھی تصویب ہو جاتی ہے جن کا تعلق اطلاقی یا فرعی اعتبار سے دین سے ہے۔ ان میں سے ایک بڑی چیز لباس کا مسئلہ ہے۔ اس معاملے میں دین کی خاموشی کا فائدہ یہ ہے کہ ہم لباس کی کسی ہیئت کے پابند نہیں ہیں لیکن ہم کچھ اقدار کے پابند ضرور ہیں جو ملت ابراہیمی میں براہ راست انبیا کی رہنمائی میں تشکیل پذیر ہوئی ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author