ستر سے متعلق

سوال:

میرا سوال جناب طالب محسن کے ایک جواب سے متعلق ہے، جو کہ ویب سائٹ پر"مرد کا ستر" کے عنوان سے پوسٹ کیا گیا ہے۔ اس میں ایک پیرا گراف میں جناب مصنف نے یہ لکھا ہے کہ کلچرز کے مختلف ہونے کی صورت میں ہمیں اس کلچر کو ترجیح دینی چاہیے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ کیوں کہ اسے خدا کی طرف سے تصویب حاصل ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کلچر خدا کی طرف سے وحی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تصویب ہوا تھا؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔


جواب:

امید ہے ‏آپ بخیر ہوں گے۔ آپ نے ستر کے حوالے سے میرے جواپ پر ایک سوال کیا ہے۔

میں نے یہ عرض کیا تھا کہ کلچرل ایشوز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کلچر کو معیار کی حیثیت حاصل ہے اس لیے کہ اسے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویب حاصل ہے۔ آپ کا سوال یہ ہے کہ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو کیا مثال کے طور پر اس زمانے کے لباس کو ہمارے لیے ایک معیار کی حیثیت حاصل ہو گی۔جہاں تک لباس کی تراش خراش کا تعلق ہے اس میں بے شک ہر معاشرہ اپنے تصور زیب و زینت اور موسمی ضروریات وغیرہ کو ملحوظ رکھنے میں آزاد ہے۔ اصل سوال جسم کو کس حد تک ڈھکا رہنا چاہیے کا ہے۔ اس میں حضور کے زمانے کے تصور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے اس لیے وہاں اگر کوئی خرابی ہوتی تو وہ زیر بحث ‏آ جاتی۔

مزید برآں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ قرآن میں پردے کے احکام اس لباس کو مان کر دیے گئے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author