سنت کا ماخذ کیا ہے؟

سوال:

سنت کا ماخذ کیا ہے؟ کیا احادیث و آثار اور روایات ہی سنت کے مآخذ نہیں ہیں؟


جواب:

سنت کا ماخذ صحابہ کا اجماع اور عملی تواتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب صحابہ نے مجموعی طور پربغیر کسی اختلاف کے فلاں فلاں عمل نبی کی جاری کردہ سنت کے طور پر امت کو دیا ہے، پھر ہر زمانے کے لوگوں نے مجموعی اتفاق سے وہی سب اعمال نبی کی جاری کردہ سنت کے طور پر اگلے زمانے کے لوگوں کو دیے ہیں۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ فلاں فلاں عمل ہر زمانے کے لوگوں نے مجموعی اتفاق سے اگلے زمانے کے لوگوں کو دیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ان سب اعمال کے بارے امت کے مجموعی علمی ذخیرے (تاریخ، حدیث، تفسیر، فقہ ، مناظرے، علمی مباحثے ، وعظ و نصیحت کی کتب غرض ہر ہر جگہ) میں یہی بات لکھی ہوئی پاتے ہیں کہ یہ اعمال نبی کی جاری کردہ سنن ہیں اور ان کے بارے میں کسی ایک زمانے میں کسی ایک دن کے لیے بھی دو مختلف آرا نہیں رہیں، ہمیشہ سے (ہر زمانے کے) سبھی لوگ اس پر متفق رہے ہیں کہ یہ سب اعمال تو سنت ہی ہیں۔ یہ معاملہ نبی کی وفات کے فوراً بعد شروع ہوا اور حیران کن بات ہے کہ آج بھی لوگ انھیں پورے تیقن کے ساتھ ایسا ہی سمجھتے ہیں، بالکل اسی طرح، جیسے وہ قرآن کو خدا کی کتاب سمجھتے ہیں۔

نبی کی وفات سے دو تین صدیاں بعد جب احادیث کی کتب بڑی تحقیق کے ساتھ مرتب ہوئیں اور جھوٹی احادیث کو صحیح سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ ان کتب میں ان اعمال کا ذکر نہ آتا، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ان کتب حدیث میں بھی ان اعمال کا ذکر آ گیا جن اعمال پر یہ امت ان کتب کے وجود میں آنے سے پہلے ہی کھڑی تھی، بلکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ نبی کی وفات کے فوراً بعد سے لے کر اس وقت تک کھڑی تھی، جب یہ کتب وجود میں آ رہی تھیں۔ چنانچہ یہ اعمال اپنے وجود کے لیے ان کتب حدیث کے نہ اس وقت محتاج تھے اور نہ آج محتاج ہیں۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author