سنت کی تعریف میں اختلاف

سوال:

سنت کی تعریف میں اس قدر اختلاف کیوں ہے؟ لوگوں کی اکثریت کیوں سنت کی کلاسیکل تعریف ہی کی قائل ہے، جبکہ غامدی صاحب کے نزدیک سنت کی تعریف اس سے مختلف ہے۔


جواب:

پوری امت اس پر متفق ہے کہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کی طرف سے دین کے طور پر علم بھی دیا ہے اور عمل بھی، یہی علم و عمل صحابہ سے تابعین نے لیا اور پھر ان سے آگے یہ پوری امت میں پھیلا ہے، یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

جب علما نے اس دین کو مدون کرنا شروع کیا تو اس وقت مختلف اصطلاحات کا مسئلہ پیدا ہوا، سنت کا لفظ بھی انھی اصطلاحات میں سے ایک ہے۔

بعض علما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور آپ کے اعمال کو سنت کا نام دیا، بعض نے آپ کی احادیث کو سنت کا نام دیا۔ غامدی صاحب کے نزدیک بطور اصطلاح سنت کے لفظ کو عملی تواتر سے ملنے والے ان دینی اعمال کے لیے بولا جانا چاہیے جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت میں جاری کیا تھا، چنا نچہ وہ اصطلاحاً انھی کوسنت قرار دیتے ہیں۔

سنت کا یہی لفظ ایک دوسری اصطلاح کے طور پر بھی بولا گیا ہے، یعنی بعض علما نے ان نوافل کو بھی سنت کہا ہے جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرائض کے بعد یا ان سے پہلے تطوعاً پڑھا ہے۔

اصطلاحاً سنت کا لفظ کس چیز پر بولنا چاہیے، اس میں محققین کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں اور وہ مختلف ہیں۔

رہی یہ بات کہ انسانوں کی اکثریت سنت کی کلاسیکل تعریف ہی کی قائل کیوں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنت کا لفظ اپنے جن اصطلاحی معنوں میں ایک لمبے عرصے سے بولا جاتا رہا ہے، ظاہر ہے کہ لوگ اسی کے قائل ہوں گے۔ غامدی صاحب نے سنت کو جن اصطلاحی معنوں میں بولا ہے، اگر امت کے نزدیک یہ زیادہ موزوں ہوا تو ان شاء اللہ وہ اسے قبول کر لے گی۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author