سورۂ ص کی آیہ کریمہ٤٤

سوال:

حیلہ شرعی جس کو فقہا نے سورہ ص کی آیہ کریمہ٤٤ سے استنباط کیا ہے ، اس پر کچھ روشنی ڈالیے۔ مزید برآں اصلاحی صاحب اس آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: دین میں اسی چیز کا اہتمام ہے۔ اگر کسی حکم کی تعمیل اس کی اصل صورت میں متعذر ہو تو اس کی تعمیل شبہی صورت میں ضرور کی جائے تاکہ اس کی یاد قائم رہے۔ اس اصل پر تفریع کرتے ہوئے کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ امامت، اذان، تعزیت اور تسلیت، تراویح اور قرآن خوانی، چونکہ اصل شکل میں تقریبا متعذر ہے۔ پس باید آنکہ شبہی صورت میں بجالایا جائے جو آجکل مروج ہے۔ اس صورت میں بدعت اضافی چہ معنی دارد؟


جواب:

آپ کی تفریع سمجھ میں نہیں آئی۔ عذر کی صورت میں شرعی فرائض میں رخصت کی صورتیں واضح ہیں۔ امامت جہاں حاکم موجود نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی دوسرے حضرات جماعت کی امامت کراتے تھے۔ اذان بعینہ دی جاری ہے۔ تعزیت کی دینی صورت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ تراویح یعنی سحری کی نماز تہجد کو عشاء کے ساتھ پڑھنے کی اجازت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ دین میں بدعت صرف اس وقت وجود میں آتی ہے جب کوئی نیا دینی عمل رائج کیا جائے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author