سزا کا فرق

سوال:

دنیا میں جرم کی سزا پانے کے حوالے سے امیر اور غریب میں اور صاحب اقتدار اور مجبور و بے کس میں فرق کیوں ہے؟


جواب:

خدا نے یہ دنیا آزمایش کے لیے بنائی ہے۔ چنانچہ اُس نے اِس میں یہ گنجایش رکھی ہے کہ یہاں اگر کوئی اپنے دائرۂ اختیار میں عدل کرنا چاہے تو وہ عدل کر سکے ، ظلم کرنا چاہے تو ظلم کر سکے ، نیکی کرنا چاہے تو نیکی کر سکے اور بدی کرنا چاہے تو بدی کر سکے۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں صاحب اقتدار افراد عام طور پر اپنے متعلقین کو جرائم کی سزا پانے سے بچا لیتے ہیں، لیکن اسی دنیا میں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض صاحب اقتدار افراد خدا سے ڈرتے ہیں اور وہ ایسا نہیں کرتے۔ خدا کے نزدیک یہ افراد اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ وہ انھیں اپنی جنت کے لیے منتخب کر لیتا ہے۔ اس نے اسی مقصد کی خاطر یہ آزمایش گاہ بنائی ہے۔
چنانچہ آدمی کو پریشان ہونے کے بجاے یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم خود اپنے (چھوٹے یا بڑے) دائرۂ اختیار میں خدا خوفی سے کام لے رہے ہیں یا نہیں، کیونکہ بس ابھی عدالت لگنے والی ہے اور ابھی فیصلہ ہونے والا ہے۔ وقت تیزی سے گزرتا چلا جا رہا ہے۔ ہر آدمی مسلسل اپنا اعمال نامہ لکھ رہا ہے، وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رک رہا۔ پھر جب موت کا فرشتہ آتا ہے تو وہ اپنا اعمال نامہ لکھنا بند کر دیتا ہے، بغیر کسی سے بات کیے چپ چاپ اس کے ساتھ چل دیتا ہے اور پھر وہ کبھی واپس نہیں آتا، پھر وہ کسی سے کوئی رابطہ نہیں رکھتا ہے۔ ہر آدمی ایسے ہی کر رہا ہے۔ دنیا کی یہ کہانی کتنی عجیب ہے۔ بس لازم ہے کہ ہر آدمی اپنی فکر کرے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author