تدوين حديث

سوال:

میں نے آپ کی ویب سائٹ پر ایک مضمون حدیث کی تدوین پڑھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر احادیث کی تدوین صحابہ کرام کے زمانہ میں ہی شروع ہو گئی تھی تو اب وہ مجموعے کہاں ہیں جنہیں صحابہ کرام نے ترتیب دیا تھا؟ آپ نے جن مجموعوں کا ذکر کیا ہے وہ مارکیٹ میں کن ناموں سے ملتے ہیں؟

جنہیں آپ مکمل اور منظم مجموعے کہتے ہیں ایسی کتابوں کی دین میں کیا حیثیت ہے؟ جبکہ ان کے مولفین خود یہ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں موجود چھ لاکھ احادیث میں سے صرف چھ ہزار ہی پایہ ثبوت کو پہنچتی ہیں۔ پہلے دو تین سالوں کے بارے میں آپ نے کہا ہے کہ اتنے عرصہ میں احادیث کے مجموعے مکمل کئے گئے۔ تو پھر احادیث کی کتابوں میں سے امام بخاری کی کتاب کے مقدمہ کو پڑھنے سے یہ پتا چلتا ہے کہ انہوں نے معلوم او ر دستیاب چھ لاکھ احادیث میں سے صرف چھ ہزار چھانٹ کر منتخب کی ہیں۔ اس کا مطلب ہے انہوں نے پانچ لاکھ چورانوے ہزار احادیث اپنی تحقیق کے مطابق معیار صحت پر پورا اترتی نہیں پائیں۔ جو احادیث انہوں نے اختیار کی بھی ہیں ان کے بارے میں یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ وہ نبی علیہ السلام کے الفاظ ہیں۔ غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ بخاری نے سولہ سال میں اپنی تحقیق مکمل کی۔ اس حساب سے انہوں نے اوسطا ہر حدیث کو صرف پندرہ منٹ دئیے۔ کیا انہوں نے کھانا نہیں کھایا؟ نماز نہیں پڑھی؟ کوئی اور دوسرا ذاتی کام نہیں کیا؟ کیا یہ تحقیق تھی امام صاحب کی؟ انہوں نے جلدبازی نہیں کی؟ یہی حالات حدیث کی دوسری کتابوں کے ہیں۔ اس کے بعد اس سارے کام کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟


جواب:

صحابہ کرام کے زمانے میں مرتب کردہ احادیث کے مجموعوں کا ذکر تاریخی طور پر ملتا ہے اور اسے بیان کرنے کا مقصد عام طور اس بات کو واضح کرنا ہوتا ہے کہ کہ تدوین حدیث کا خیال لوگوں کو دوسری تیسری صدی میں نہیں آیا بلکہ تدوین حدیث کا سلسلہ صحابہ کے دور سے جاری ہے۔ڈاکٹر حمید اﷲ (م 2002)نے ان میں سے ایک صحیفہ (صحفہ ہمام بن منبہ، م132ھ)کو تلاش کرکے شائع بھی کیا ہے۔

جہاں تک کثرت حدیث کا سوال ہے اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ چھ لاکھ حدیثوں میں چھ لاکھ الگ الگ باتیں بیان ہوئی ہوں بلکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ایک ہی متن بعض اوقات درجنوں بلکہ سیکڑوں طریقوں سے بیان ہوا ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ متن ایک ہی ہوتا ہے مگر سند میں راوی بدل جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے حدیث میں ایک ہی بات بیان ہورہی ہوتی ہے مگر فنی طور پر اسے سیکڑوں الگ الگ احادیث سمجھا جاتا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ حدیث کے نام سے جو کچھ آجاتا ہے وہ دین بن جاتا ہے۔ بلکہ اہل علم اخبار احد کو قبول کرنے کی بڑی کڑی شرائط عائد کرتی ہے اس سلسلے میں بہتر یہ ہوگا کہ دین میں تدبر کرتے ہوئے احادیث کے مقام اور ان کے قبول کیے جانے کے شرائط کے حوالے سے استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کی تصنیف میزان کے باب مبادی تدبر حدیث کا مطالعہ کر لیاجائے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author