تخلیقِ کائنات سے خدا کا مقصد

سوال:

یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کے الله نے دنیا اس لئے بنائی ہے کے الله اپنی جنت کے لئے اپنے نیک بندوں کا انتخاب کرے۔لیکن میرے زہن میں کبھی کبھی یہ سوال آتا ہے کے الله نے یہ کائنات کیوں بنا ئی ؟ ہم اپنی تخليق کا مقصد تو دین کے روشنی میں جان لیتے ہیں ۔ مگر الله تعالی كی ذات مبارك کو ہمیں اور اس کائنات کو بنانے اور ان سب چیزوں کی وجود میں لانے كيا ضرورت تھی؟


جواب:

کائنات کی تخلیق اللہ تعالی نے کیوں کی؟ یہ ایک اہم سوال ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا جواب واضح الفاظ میں ہمیں قرآن وسنت میں نہیں دیا گیا۔ ہمارے ہاں اہل تصوف نے یہ جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالی نے اپنے آپ کو پہلے پہل جانا تو اپنے تعارف اور جنوانے کی ضرورت محسوس کی جس کے لیے یہ کائنات تخلیق کی گئی۔ لیکن یہ جواب قرآن و سنت سے تائید حاصل نہیں کرتا۔ محض ایک ذہنی خیال ہے۔ کیونکہ جیسا میں نے عرض کیا قرآن وسنت میں اس کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔

جب کسی چیز کا جواب قرآن و سنت میں نہ آیا ہو، تو اس کے بارے میں ہمارے ہاں دو طریقے پائے جاتے ہیں ، ایک یہ کہ ہم بھی خاموش رہیں اور دوسرے یہ کہ اجتہاد و قیاس کے طریقے پر جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔

اگر ہم دوسرا راستہ اختیار کریں تومیرے خیال میں اس کو جاننے کے لیے ایک سادہ طریقہ ہو سکتا ہے کہ ہم صفات الہی کا مطالعہ کریں ، ہو سکتا ہے ہمیں اس کا جواب مل جائے۔ یہ وہی طریقہ ہے جو ہم کسی مصنف کی تحریر کے ان مقاصد کو جاننے کے لیے کرتے ہیں ، جن کو اس نے بیان نہیں کیا ہوتا ۔ مثلا ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مصنف کے حالات زندگی کیا تھا، وہ کن امور میں دلچسپی رکھتا تھا وغیرہ ان کے مطالعہ سے ہمیں وہ مخفی مقاصد معلوم ہو جاتے ہیں جو ہمیں لفظوں میں مصنف نے نہیں بتائے ہوتے۔

ہمارے پاس قرآن مجید ہے جس میں اللہ تعالی کا تعارف بہت ہی تفصیل سے کرایا گیا ہے۔اللہ تعالی کی بہت سی صفات جنھیں عام طور پر 99 نام کہا جاتا ہے ان میں سے بہت سی قرآن مجید ہی میں ہیں۔ یہاں ہم صرف پانچ صفات تک محدود رہیں گے جو ہمارے موضوع سے بہت واضح طور پر متعلق ہیں:

1۔خالق

2۔ حکیم

3۔ رحمن و رحیم

4۔رب

5۔ حمید مجید

پہلی صفت خالق کی ہے۔ جب کسی شخص میں تخلیق کی صلاحیت ہوتی ہے تو وہ چیزیں تخلیق کرتا ہے۔ مثلا مصور ہو تو تصویریں بناتا ہے ، شاعر ہو تو شاعری تخلیق کرتا ہے، مورت گر ہو تومورتیا ں تراشتا ہے۔ خدا کی صفت ِ خلق تخلیق کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات واضح ہے۔ صفت خلق اپنے اندر مقصد نہیں رکھتی ، اس کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ وہ خلق کرنا چاہتی ہے۔ گویا صفت ِخلق کا مقصدتخلیق ہی ہے۔

اب اگلی صفت حکیم کی ہے، یہ اوپر کی صفت تخلیق کو حکمت سے مزین کرتی ہے۔جس کے نتیجے میں اللہ رب العالمین کی ہر تخلیق پر حکمت ہوتی ہے۔ مثلا ہماری تخلیق کے پیچھے وہ حکمت ہے جسے آپ نے بھی بیان کیا ہے کہ امتحان ہے۔ اللہ تعالی نے اسے سورہ الملک کی پہلی آیات میں بیان کیا ہے۔

تیسری صفت رحمن و رحیم کی ہے۔ رحمت قرآن کی روشنی میں نہایت جامع صفت ہے، اس میں شفقت و عنایت کے ساتھ اس میں عدل بھی شامل ہے اس لیے کہ جب رحمت ناانصافی پیدا کررہی ہو تو وہ رحمت نہیں ظلم بن جاتی ہے۔یہ صفت تخلیق کے مقاصد میں رحمت کو غالب رکھتی ہے۔ چنانچہ ہر تخلیق رحمت پر مبنی ہے ،چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہر چیز خواہ و ہ بظاہر بری لگ رہی ہو اس کا بالآخر انجام قیامت کے دن خیر اور انصاف پر ہو گا۔اسی بات کو اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یوں فرمایا ہےکہ :

كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ رَيْبَ فِيهِ (الانعام 6: 12)

اللہ نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا ۔

یعنی اللہ کی صفت رحمت کے واجب ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ قیامت والا معاملہ ضرور کریں گے۔ قیامت کے برپا کیے بغیر اللہ کی صفت رحمت کا تقاضا پورا نہیں ہو گا۔

چوتھی صفت رب ہے۔ رب کے معنی آقا اور مالک کے ہیں، تخلیق کی گئی ہر چیز کا مالک اللہ ہے۔ ایسے ہی جیسے ایک مصور اپنی تصویر کا اور ایک مصنف اپنی تحریر کا مالک ہوتا ہے۔تخلیق کا یہ عمل ہی ایسا ہے کہ جو ہر چیز میں خدا کا حق ملکیت پیدا کردیتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہر چیز پیدا ہوتے ہی اللہ کے آگے خودبخود جواب دہ ہے۔

پانچویں صفت حمید مجید ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ وہ گھٹیا اور غیر سنجیدہ قسم کے کام نہیں کرتی۔ وہ حمید ہے اس کا ہر کام قابل تعریف و تحسین ہے اور وہ مجید ہے اس کا ہر کام سنجیدہ ، باوقار اور بامقصد ہے۔

ان پانچوں صفا ت کی روشنی میں ہم اب آپ کاجواب دیتے ہیں کہ کائنات اس لیے تخلیق ہو ئی کہ اللہ کی صفت تخلیق نے اپنا اظہار کیا تو کائنات تخلیق ہو گئی گویاتخلیق کائنات کے پیچھےاللہ کی صفتِ تخلیق کارفرما ہے، یہ اس کی صفت تخلیق کا شاندار اظہار ہے۔جب بھی کسی ہستی میں کوئی صفت پائی جاتی ہے اس کا اظہار ہو کر رہتا ہے۔ لہذا یہ کائنات اس صفت کا اظہار ہے۔ لیکن یہ صفت تخلیق کا اظہار رحمت، حکمت، ربوبیت اورمجد و حمدکے قاعدوں کے تحت معنویت ،مقصدیت اور بے عیبی پاتا ۔

answered by: Sajid Hameed

About the Author

Sajid Hameed


Sajid Hameed was born on October 10 1965 in Pakpattan. He did his MA in Urdu and another MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He studied Arabic grammar, language and literature. He leant the holy Qur’an from Mr Muhammad Sabiq, a Deobandi scholar. He studied the Muwatta of Imam Malik, the celebrated hadith compilation and Nuzhah al-Fikr, the famous work on Hadith criticism from Hafiz Ata ur Rehman an erudite Hadith scholar. For advanced studies in religious disciplines he has remained a student of Javed Ahmad Ghamidi since 1987. He has deeply studied the Qur’an, Hadith, Arabic literature and other religious disciplines.