تعلیم نسواں

سوال:

میں مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات جاننا چاہتا ہوں:

۱۔ عورت کا دائرہ عمل اسلام کی نظر میں کیا ہے؟

۲۔ عورت کو کس حد تک اور کن ذرائع سے تعلیم حاصل کرنا چاہیے؟

۳۔ اسلام میں کو ایجوکیشن کی کیا حیثیت ہے؟

۴۔ علمی قوانین میں تخفیف اور شدت کن حالات میں اور کس طرح لائی جائے؟


جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

1)اسلام میں باقاعدہ طریقہ پر عورتوں کے لیے کوئی دائرہ عمل مقرر نہیں کیاگیا۔ عورت تعلیم حاصل کرسکتی ہے ، کاروبار کرسکتی ہے، ڈرائیونگ کرسکتی ہے۔حتیٰ کہ جنگ وجہاد میں حصہ لے سکتی ہے۔ ظاہر ہے یہ سارے کام گھرسے باہر ہی ہوسکتے ہیں۔ البتہ خواتین کی معاشی ذمہ داری ان کے مردوں پر عائد کی گئی ہے۔ اسی طرح ایک عورت ماں بننے کی عظیم ذمہ داری سے بار بار گزرتی ہے۔ بچوں کا حمل، پیدائش، رضاعت، اور پرورش و ہ ذمہ داریاں ہیں جو گھرپر رہ کرہی سرانجام دی جاسکتی ہیں۔ اس لیے ایک عورت کی سرگرمیوں کا مرکز اور اس کے اولین ترجیحی اس کا گھر ہی ہوتا ہے۔

2)عورت کی تعلیم کے حوالے سے دین میں کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ اپنے ذوق پسند وحالات کے لحاظ سے جو تعلیم اور جس حد تک چاہے حاصل کرسکتی ہے۔

3)مخلوط تعلیم کے متعلق براہ راست کوئی دینی حکم موجود نہیں۔تاہم عمر کے جس حصے میں نوجوان لڑکے لڑکیاں کوایجوکیشن کے عمل میں ساتھ ہوتے ہیں اکثر اس سے خرابیاں پیداہوتی ہوئی دیکھی جاتی ہیں۔ تاہم اگر ایسا موقع ہو تو اہتمام کے ساتھ ان قوانین کی پابندی کرنی چاہیے جو اسلام نے مردوزن کے اختلاط کے موقع پر عائد کیے ہیں۔

4)دینی قوانین میں کوئی شدت نہیں ہوتی۔ البتہ لوگوں کے حالات کی رعایت کرتے ہوئے بعض مواقع پر تخفیف کردی جاتی ہے جیسے مسافر اور بیمار کے لیے اجازت ہے کہ روزہ بعد کے دنوں میں پوراکرلیں۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author