ٹیلی وژن کے مضر اثرات

سوال:

اب جبکہ ٹیلی وژن ہر گھر کا لازمی حصہ بن گیا ہے تو گھریلو خواتین کو اس کے مضر اثرات سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟


جواب:

تمدن کے ارتقا کے نتیجے میں ٹیلی وژن نے جو سماجی اور معاشرتی حیثیت حاصل کر لی ہے، اس کے بعد اسے گھر سے نکالنا ناممکن ہو گیا ہے۔ اس طرح کی کوشش خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ہر شخص کو دو کام کرنے چاہییں: ایک یہ کہ وہ جب بھی موقع پائے کار پرداز لوگوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے اندر خیر و شر کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ وہ ان کے دلوں میں جنت کی طلب پیدا کرے۔ انھیں سمجھائے کہ نفس کی یہ معمولی سی آلایش وہاں کتنے بڑے خسارے کا باعث بن جائے گی۔ آخرت کے صحیح شعور کو جب آپ اپنے اہلِ خانہ کے اندر اجاگر کر دیں گے تو یہ چیزیں آپ سے آپ بے معنی ہوتی چلی جائیں گی۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author