تقدیر اور کوشش

سوال:

میرا سوال یہ ہے کہ اگر کارخانہ قدرت میں ہر کام کا واقع ہونا طے ہے تو پھر کوشش کیوں کرنی چاہیے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا نظام تدبیر پر قائم ہے۔ تقدیر اگرچہ اس تدبیر کے ساتھ بھی ‏چلتی ہے اور اس کے خلاف بھی اور الگ راہ بھی نکالتی اور پیدا کرتی ہے۔ لیکن ہمارے پاس جو سرا ہے وہ تدبیر اور دعا کا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ تقدیر کیا ہے۔ ہمارے علم میں تقدیر اس وقت آتی ہے جب وہ ماضی بن چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ہم اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رکھتے کہ اپنی بہتریں صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے تدبیر اور محنت کریں اور کامیابی کے لیے دعا کریں۔ اگر کامیابی ہو تو شکر ادا کریں اور اگر ناکامی ہو تو اپنی تدبیر ہی کی خامیوں کی اصلاح کریں۔ یہ اس دنیا کی حقیقت ہے اور اس کے مطابق ہر پیغمبر نے زندگی بسر کی ہے۔ کوئی کھیت ہل چلائے بغیر نہیں اگتا۔ اور نہ ہل چلانا کامیاب کھیت اگنے کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہل چلانا بھی ضروری ہے اور دعا کرنا بھی۔ تقدیر کا عقیدہ ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کا نام نہیں۔ اس بات کو ماننے کا نام ہے کہ اس دنیا کا نظام اصل میں اللہ کے ہاتھ میں ہے ہماری تدبیر اسی نظام کا حصہ ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author