تصویر کا مسئلہ

سوال:

کیا جان دار کی تصویر بنانا اسلام میں جائز نہیں ہے؟ تصویر کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے؟


جواب:

تصویر کے بارے میں عمومی نقطۂ نظر، یعنی یہ کہ جان دار کی تصویر ناجائز اور بے جان کی جائز ہے، یہ درست نہیں ہے۔ صحیح نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہر وہ تصویر ناجائز ہے ، جو کسی بھی درجے میں مظہر شرک ہے۔ یہی بات قرآن مجید کی واضح رہنمائی سے ہمارے سامنے آتی اور یہی احادیث صحیحہ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے۔ صحابہ اور تابعین کا فہم بھی یہی حکم لگاتا اور اُن کا عمل بھی اسی کے مطابق دکھائی دیتا ہے ۔ یہی بات قدیم آسمانی مذاہب میں پائی جاتی ہے۔


قرآن و حدیث میں تصاویر پر جتنی تنقید بھی کی گئی ہے، وہ سب مشرکانہ تصاویر کے حوالے سے ہے۔ عام نوعیت کی تصاویر کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔البتہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ وہ تصاویر جن میں شرک کے علاوہ کوئی اور دینی یا اخلاقی خرابی پائی جاتی ہے،وہ بھی دینی طور پر بالکل ممنوع ہیں۔ لیکن تصویر پر بحیثیت تصویر، خواہ وہ جان دار کی ہو یا بے جان کی، دین کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ خدا کا دین تصویر بنانے کو صرف اور صرف اُس وقت ممنوع قرار دیتا ہے، جب اُس میں کوئی دینی یا اخلاقی خرابی پائی جاتی ہو۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author