تین بار طلاق

سوال:

میں نے 30 مئی کو آٹھ گواہوں کے سامنے غصے کی حالت میں تین بار طلاق دے دی۔ میری بیوی اور اس کے گھر والے اب طلاق کو نہیں مانتے۔ 30 مئی سے وہ اب تک میرے گھررہ رہی ہے۔ اس کے گھر والے اس کو نہیں لے جارہے ہیں۔ ہمارا ایک سال کا بچا بھی ہے۔ اور وہ دو ماہ کی حاملہ بھی ہے۔ میری رہنمائی فرمائیں۔


جواب:

بنیادی بات یہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے اور طلاق اس کے سکھائے ہوئے طریقے کے خلاف دی ہے۔ قرآن مجید کا اصرار ہے کہ صرف ایک طلاق دی جائے۔ وہ عدت یعنی تین حیض تک طلاق واپس لینے کا اختیار مرد کو دیتا ہے اور عدت گزر جائے تب بھی مرد اور عورت دونوں کے پاس موقع ہوتا ہے کہ وہ آپس میں دوبارہ نکاح کر لیں۔ لیکن آپ نے ایک ہی موقع پر تین بار طلاق دے کر اس ہدایت کی نافرمانی کی ہے۔ آپ کو اس پر توبہ کرنی چاہیے۔

آپ کی مطلقہ شریعت کی رو سے عدت کے دوران آپ کے گھر میں رہیں گی اور حاملہ ہونے کی وجہ سے ان کی عدت بچے کی پیدایش تک ہے۔ اس عرصے میں آپ اپنے معیار کے مطابق اس کے رہن سہن کے ذمہ دار ہیں۔

رہا طلاق کا معاملہ تو وہ گواہوں اور حالات کے تجزیے کا متقاضی ہے۔ آپ کسی صاحب علم وفراست کو ثالث بنائیں۔ یہ ثالث آپ، آپ کی بیوی اور گواہوں کے بیانات لے۔ تمام فریق اس ثالث کے فیصلے کو ماننے کا اقرار کریں۔ اس کے بعد وہ ثالث یہ فیصلہ کرے کہ ایک طلاق وا‏قع ہوئی ہے یا کوئی طلاق ہی نہیں ہوئی ہے۔

ثالث جو بھی فیصلہ دے اگلا تمام معاملہ اس کے فیصلے پر منحصر ہے۔ اگر وہ ایک طلاق واقع کرتا ہے تو آپ رجوع کر سکتے ہیں اور اگر وہ طلاق واقع نہیں کرتا تو آپ اطمینان سے میاں بیوی کے طور پر رہ سکتے ہیں۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author