تحقیق اور تقلید

سوال:

سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر صرف وہی چیزیں فرض ہیں اور میں انہی باتوں کے لیے جواب دہ ہوں جومیں نے بذاتِ خود نیک نیتی سے تحقیق کر کے قرآن و حدیث سے اخذ کی ہوں؟ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی صلاحیت تو دی ہے کہ میں اندھی تقلید کرنے کے بجائے ، خود اسلام کو سمجھوں یا کم از کم سمجھنے کی کوشش تو کرسکوں ، اور پھر یہ کہ میں رائج الوقت اسلام سے پوری طرح مطمئن بھی نہیں ہوں۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے


جواب:

یہ ایک بڑ ی مبارک بات ہے کہ آپ میں اندھی تقلید سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے آپ پر صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ جو کچھ آپ اپنے ماحول میں اور اردگرد مذہب کے نام پر پائیں ، اس میں سے جس چیز پر آپ کو کوئی کھٹک اور کوئی سوال پیدا ہوجائے اس پر تحقیق کیجیے۔ ایک عام آدمی کی حیثیت سے آپ کی تحقیق کا طریقہ یہ ہو گا کہ آپ ایک مسئلے پر تمام اہل علم کی آرا اور ان کے دلائل جاننے کی کوشش کریں۔ ان کے دلائل کو قرآن و سنت اور معقولیت کی کسوٹی پر پرکھیں۔ اپنا سینہ تعصب سے اور دماغ تکبر سے پاک رکھیں۔ اپنا مقصود صرف اللہ کی رضا کو قرار دیں۔ جو نتیجہ بھی سامنے آئے اسے کھلے دل سے تسلیم کریں۔ جو چیز واضح ہوجائے اس پر قائم ہوجائیے ، لیکن دل دماغ کے دریچے پھر بھی وا رکھیے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی بندۂ خدا آپ کی غلطی آئندہ واضح کر دے۔ یہی دین کا مطلوب طریقہ ہے۔

یہ بات بھی سمجھ لیں کہ اس دنیامیں انسان صرف انہی باتوں کو نہیں مانتا جنہیں اس نے اپنی تحقیق سے سمجھا ہے ، نہ ایسا کرنا ممکن ہے۔ انسان ہر اس بات کو مانتا اور اس پر عمل کرتا ہے جو اسے ماحول اور ورثے سے ملی ہو اور اسے ٹھیک لگ رہی ہو۔ انسان ایسی تمام باتوں پر عمل کرنے کا مکلف ہے۔ اس پر تحقیق کی ذمہ داری صرف اس وقت ہے جب کسی بات میں کوئی سوال اور کھٹک پیدا ہوجائے۔ مختصر یہ کہ عمل کی ذمہ داری ہر اس چیز کی ہے جسے انسان مان رہا ہے اور تحقیق کی ذمہ داری صرف اس شے پر ہے جس پر سوال پیدا ہو جائے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author