تنخواہ پر زکوٰۃ کا نصاب

سوال:

تنخواہ پر زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟


جواب:

غامدی صاحب کی راے یہ ہے کہ تنخواہ پیداوار کے ضمن میں آتی ہے اور اس پر پیداوار کی زکوٰۃ کی شرح لگائی جائے گی۔ چنانچہ ہر اس آدمی کو جس کی تنخواہ نصاب تک پہنچتی ہو ، اپنی تنخواہ کا دس فی صد زکوٰۃ کے طور پر دینا ہو گا۔ اس زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے، یعنی تنخواہ کی کتنی مقدار ہو تو اس پر زکوٰۃ عائد ہو گی، یہ بات مسلمانوں کی حکومت کو طے کرنا ہو گی، لیکن جب تک وہ یہ طے نہیں کرتی، اس وقت تک غامدی صاحب کے نزدیک اگر کسی آدمی کی آمدنی اس کی بنیادی ضروریات کی حد سے اتنی زیادہ ہوئی کہ زکوٰۃ نکال کر باقی رقم سے اس کی بنیادی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں تو اس پر یہ زکوٰۃ اپنی شرح کے مطابق عائد ہو گی۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author