طنز كا جواب

سوال:

میں ایک اہم سوال سے متعلق آپ کی رائے لینا چاہتی ہوں۔ میں ایک گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہوں۔ وہا ں میرے ساتھی ٹیچرز جو ہیں وہ باتوں باتوں میں مجھے طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ جس کے باعث مجھے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میں ذہنی طور پر فریش نہیں رہتی۔ اگر میں ان لوگوں کے طنز کا جواب بھی دوں تو مجھے مزید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں کسی اور کالج میں اپنا ٹرانسفر کروالوں یا اگر ان سے کنارہ کشی اختیار کروں؟ یا کوئی اور راستہ نکالوں؟ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ نے جو صورت حال لکھی ہے وہ بہت افسوس ناک ہے ۔تاہم اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ اپنا ٹرانسفر کسی اور کالج میں کرائیں۔ہوسکتا ہے کہ وہاں بھی کچھ ایسے ہی مسائل کا سامنا آپ کو کرنا پڑجائے۔ممکن ہے کہ ملازمت کے علاوہ دیگر جگہوں پر بھی آپ کو ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑجائے ۔اس لیے اس مسئلہ کا اصل حل یہ ہے کہ آپ لوگوں کی باتوں کو نظراندازکرنا شروع کردیں۔ لوگ اس طرح کی باتیں اس وقت تک ہی کرتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ سامنے والے پر ان کااثر ہورہاہے۔ مزید یہ کہ لوگوں کی باتوں کی پروا کیے بغیر آپ ان کے ساتھ ان کی مجالس میں بیٹھنا کم کردیں ۔اور اس وقت کو اللہ کے ذکرمیں وقف کردیں۔ انشاء اللہ اس کے بعد لوگ آپ پر طعن ووطنز کے تیر چلانا بند کردیں گے اور بہت عزت و احترام کے ساتھ آپ کے ساتھ معاملہ کرنے لگیں گے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author