ترکے کی تقسیم

سوال:

درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیے

١۔ مرحوم بیٹے کے ورثہ کی تقسیم جبکہ اس کے والدین، بیوی اور بچے زندہ ہوں۔

٢۔ مرحوم بیٹے کے ورثہ کی تقسیم جبکہ اس کی ماں بیوی اور بچے زندہ ہوں۔

٣۔بیوی کے ورثہ کی تقسیم جبکہ اس کا شوہر اور بچے زندہ ہوں۔


جواب:

پہلی صورت میں مرحوم کے ورثاء تین ہیں۔ والدین، بیوی اور بچے۔ ہم نے یہ مان لیا ہے کہ بچے کا لفظ صرف لڑکیوں کے لیے نہیں بولا گیا اور اس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں۔ میت پر کوئی قرض نہیں تھا اور نہ اس نے کوئی وصیت کی تھی۔ اب ہمارے نزدیک سب سے پہلے والدین اور بیوی کا حصہ نکالا جائے گا۔ والدین میں سے ہر ایک کو کل ورثے کا چھٹا حصہ دے دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر ترکہ ٧٢ روپے تھا تو والد کو بھی بارہ روپے ملیں گے اور والدہ کو بھی بارہ روپے دیے جائیں گے۔ بیوی کو کل ترکے کا آٹھواں حصہ دیا جائے گا۔ مراد یہ ہے کہ بیوی کو ٧٢ میں سے نو روپے دیے جائیں گے۔ باقی بچنے والے روپے بچوں کو اس طرح دے جاتے ہیں کہ بیٹی سے بیٹے کا حصہ دگنا ہو۔ ہماری مثال کے مطابق ٧٢ میں ٢٤ والدین کو اور ٩ روپے بیوی کو دینے کے بعد ٣٩ روپے بچے ہیں۔ اب اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے تو بیٹی کو ١٣ روپے اور بیٹے کو ٢٦ روپے ملیں گے۔

دوسری صورت میں بھی وہی تین ہی وارث ہیں فرق صرف یہ ہے کہ والدین میں سے بھی والد موجود نہیں ہیں۔ قاعدہ وہی ہے۔ پہلے والدہ کو کل ترکے کا چھٹا حصہ اور پھر بیوی کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد باقی رقم بچوں میں مذکورہ طریقے کے مطابق تقسیم ہو گی ۔ ٧٢ میں سے ١٢ روپے والدہ کو اور نو روپے بیوی کو ادا کرنے کے بعد باقی ٥١ روپے بچیں گے۔ اوپر والی مثال کے مطابق اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے تو بیٹے کو ٣٤ روپے اور بیٹی کو ١٧ روپے دیے جائیں گے۔

تیسری صورت میں مرنے والی بیوی ہے اور اس کا ترکہ شوہر اور بچوں میں تقسیم ہونا ہے۔ بیوی کی اگر اولاد ہو تو شوہر کا حصہ ترکے کا چوتھائی ہے۔ باقی ترکہ بچوں میں مذکورہ قاعدے کے مطابق تقسیم ہونا ہے۔ ٧٢ میں سے ١٨ روپے شوہر کو ملیں گے اور باقی بچنے والے ٥٤ روپے میں سے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کی صورت میں ١٨ روپے بیٹی کو اور ٣٦ روپے بیٹے کو دیے جائیں گے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author