ترتيب و جمع قرآن کے متعلق قرآن كا بيان

سوال:

فتعلی الله الملك الحق ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضی اليك وحيه وقل رب زدنی علما

پس اللہ بادشاہ حقیقی بہت برتر ہے۔ تم قرآن کے لیے، اپنی طرف اس کی وحی پوری کیے جانے سے پہلے، جلدی نہ کرو اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب میرے علم میں افزونی فرما۔


اس جامع آیت کے حوالے سے میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ علوم میں کوئی آدمی کامل نہیں ہوتا۔ یہی رائے رکھتے ہوئے میں کسی سے سوال کرتا ہوں۔


میں جاوید احمد غامدی صاحب سے جمع قرآن کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔


کیا قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت ہے جو یہ بات بیان کرتی ہو کہ جس ترتیب سے موجودہ قرآن مجید ہے اسی ترتیب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی مدون ہوا تھا۔


مزید برآں آپ ان روایات پر بھی اپنی قیمتی رائے سے مستفیض فرمائیں جو قرآن مجید کے دو طرح سے مرتب ہونے کو بیان کرتی ہیں۔ایک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مقرر کردہ کمیٹی کی ترتیب جس پر اب یہ قرآن مروج ہے۔ دوسرے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ترتیب جس میں انھوں نے زمانہ نزول کے حوالے سے تاریخی ترتیب سے قرآن مرتب کیا تھا۔
اب جب میں قرآن مجید سے استفادہ کرتا ہوں تو مجھے نزولی ترتیب کی معلومات بہت مفید لگتی ہیں۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ کسی حکم فلاں موقع پر نازل ہونے کی حکمت کیا تھی اور اس میں تدریج کے کیا پہلو پیش نظر تھے۔


جواب:

ہمارے نزدیک قرآن مجید جس ترتیب میں ہمارے ہاں موجود ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی ترتیب سےاللہ تعالی کی رہنمائی میں اسے مرتب کر کے گئے تھے۔ یہ ترتیب اس انداز سے کی گئی ہےکہ اب اسے سمجھنے اور اس کی حکمتوں تک پہنچنے کے لیے کسی خارجی ذریعے کی ضرورت نہیںہے۔ استاد محترم نے اپنی کتاب اصول ومبادی میں اس حوالے سے لکھا ہے:

''اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

سنقرئك فلا تنسی، الاماشاء الله، انه يعلم الجهر وما يخفی (الاعلی٨٧:٦۔٧)

''عنقریب (اسے) ہم (پورا) تمھیں پڑھا دیں گے تو تم نہیں بھولو گے۔ مگر وہی جو اللہ چاہے گا۔ وہ بے شکجانتا ہے اس کو بھی جو اس وقت (تمھارے) سامنے ہے اور اسے بھی جو (تم سے) چھپا ہواہے۔''

لاتحرك به لسانك لتعجل به ٠ انعلينا جمعه وقرانه ، فاذا قرانه فاتبع قرانه ، ثم علينا بيانه (القيامه٧٥:١٦۔١٩)

''اس (قرآن) کو جلد پا لینے کے لیے، (اے پیغمبر)، اپنیزبان کو اس پر جلدی نہ چلاؤ۔ اس کو جمع کرنا اور سنانا، یہ سب ہماری ذمہ داری ہے۔اس لیے جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو ہماری اس قرأت کی پیروی کرو۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ہےکہ (تمھارے لیے اگر کہیں ضرورت ہو تو) اس کی وضاحت کر دیں۔''

ان آیتوں میں قرآن کےنزول اور اس کی ترتیب وتدوین سے متعلق اللہ تعالیٰ کی جو اسکیم بیان ہوئی ہے، وہ یہہے: اولاً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے کہ حالات کے لحاظ سے تھوڑاتھوڑا کر کے یہ قرآن جس طرح آپ کو دیا جا رہا ہے، اس کو دینے کا صحیح طریقہ یہی ہے،لیکن اس سے آپ کو اس کی حفاظت اور جمع وترتیب کے بارے میں کوئی تردد نہیں ہوناچاہیے۔ اس کی جو قرأت اس کے زمانہ نزول میں اس وقت کی جارہی ہے، اس کے بعد اس کیایک دوسری قرأت ہوگی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت اس میں سے کوئی چیزاگر ختم کرنا چاہیں تو اسے ختم کرنے کے بعد یہ آپ کو اس طرح پڑھا دیں گے کہ اس میںکسی سہو ونسیان کا کوئی امکان باقی نہ رہے گا اور اپنی آخری صورت میں یہ بالکلمحفوظ آپ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ثانیاً، آپ کو بتایا گیا ہے کہ یہ دوسری قرأتقرآن کو جمع کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر دینے کے بعد کی جائے گی اور اس کےساتھ ہی آپ اس بات کے پابند ہو جائیں گے کہ آیندہ اسی قرات کی پیروی کریں۔ اس کےبعد اس سے پہلے کی قرات کے مطابق اس کو پڑھنا آپ کے لیے جائز نہ ہو گا۔ ثالثاً، یہبتایا گیا ہے قرآن کے کسی حکم سے متعلق اگر شرح ووضاحت کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی اسموقع پر کر دی جائے گی اور اس طرح یہ کتاب خود اس کے نازل کرنے والے ہی کی طرف سےجمع وترتیب اور تفہیم وتبیین کے بعد ہر لحاظ سے مکمل ہو جائے گی۔''

اس اقتباس سے یہواضح ہے کہ قرآن مجید جس شکل میں ہمارے سامنے ہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیدی ہوئی ہے اور اب اس کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسرے یہ بات بھی اس میںبیان ہو گئی ہے کہ تدریج اور حکمت جو کچھ بھی ہم کسی حکم کے بارے میں جاننا چاہیںوہ اس میں بیان کر دیا گیا ہے اس کے لیے اب ہمیں کسی روایت یا شان نزول کی ضرورتنہیں ہے۔ باقی رہی وہ روایات جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف نزولی ترتیب سےقرآن مرتب کرنے نسبت کی گئی ہے، انھیں ہم قرآن کی محولہ بالا آیات کی روشنی میں ردکر سکتے ہیں۔ جب قرآن میں اللہ تعالی کی دی ہوئی ترتیب کا پابند کر دیا گیا ہے توحضرت علی کی طرف اس کی خلاف ورزی کی نسبت کس طرح قبول کی جا سکتی ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author