طلاق کی عدت کا آغاز

سوال:

میری شادی کو چھ سال ہوئے ہیں۔ اس دوران کئی بار جھگڑے ہوئے ہیں اور میری بیوی بار بار روٹھ کر میکے جاتی رہتی ہے۔ اب بھی آٹھ ماہ سے وہ میکے میں ہے۔ اس سے پہلے بھی میں نے ایک رجعی طلاق دی تھی جس کے بعد رجوع بھی کر لیا تھا۔ اب بھی منانے کی کئی کوششیں ہوئی ہیں ، لیکن ان کی طرف سے طلاق کے بار بار اصرار پر میں نے ایک طلاق کا نوٹس بھیجا تھا۔ جس میں دس دن کے بعد دوسری طلاق واقع ہو جاتی اور تیس دن گزرنے پر تیسری طلاق واقع ہو جاتی۔ تیس دن گزرنے سے پہلے میں نے تیسری طلاق واقع ہونے کی شق ختم کردی۔ آپ یہ بتائیے کہ دوسری طلاق کب واقع ہوئی اور اس کی عدت کیا ہے؟ یہ بھی بتائیے کہ کیا اس عدت میں رجوع ہو سکتا ہے؟


جواب:

آپ کے خط میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، وہ آپ کا بیان ہے۔ اگر فریقین میں نزاع ہو تو کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ دونوں فریقین کے بیانات لیے جائیں اور وہ شخص فیصلہ سنائے جسے دونوں فریق بطور ثالث قبول کر چکے ہوں۔ آپ کے خط کو میں ایک علمی سوال کی حیثیت سے لے رہا ہوں اور اس میں آپ کی بیان کردہ صورت کو بھی جواب دینے کے لیے درست تسلیم کر رہا ہوں۔ لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ اس جواب کو ایک علمی راے سمجھ کر پڑھیں۔

میرے نزدیک نوٹس بھیجنے کے دسویں دن دوسری طلاق کی عدت شروع ہو گئی تھی۔ تیسرے حیض تک آپ رجوع کر سکتے اور آپ کی اہلیہ واپس آ سکتی ہیں۔ یہ صرف تیسری طلاق کی عدت ہے جس میں رجوع نہیں ہو سکتا۔ آپ کے پاس دو راستے ہیں: ایک یہ کہ آپ دوسری طلاق سے رجوع کر لیں اور اس کے لیے بھی زبانی بات چیت کے بجاے آپ اسی طرح تحریری نوٹس بھیجیں۔ اس صورت میں طلاق ختم ہو جائے گی اور آپ جب چاہیں گے صلح کر سکتے ہیں، خواہ اس میں کئی مہینے لگ جائیں۔ دوسری یہ کہ آپ عدت گزرنے دیں ۔ عدت گزرتے ہی آپ کی بیوی آزاد ہوگی ، وہ چاہے تو کسی اور سے نکاح کرلے یا آپ ہی سے دوبارہ نکاح کرلے۔

یہاں میں قرآن مجید کی ایک ہدایت کی یاددہانی بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ طلاق دینے کے بعد بیوی کا جہیز کا سامان ہو یا آپ کی طرف سے دیے ہوئے تحائف ہوں،انھیں فراخ دلی کے ساتھ بیوی کو لے جانے دینا چاہیے۔ یہ بات اگر آپ کے لیے قابل قبول نہ ہو تو بیوی کی رضامندی سے آپ کچھ چیزیں روک سکتے ہیں۔ اس معاملے میں زبر دستی کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔

answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author