طلاق اور رجوع

سوال:

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تم نے ایسا کیا تو ایک طلاق پڑ جائے گی اور اس کی بیوی وہ کام کر لے مگر وہ قرآن کے طریقہ كے مطابق نہ تو لوگوں (بزرگوں )کو گواہ بنائے نہ بیوی کو اس کے گھر بھجوائے اور چند گھنٹوں اور چند دنوں کے اندر رجوع کر لے تو کیا طلاق واقع ہوئی؟ یا عدت سے پہلے رجوع کرنے سے جو تین (٣) مواقع اس کے پاس تھے وہ واپس آ گئے یا نہیں جب کہ بیوی نہ گھر گئی نہ رجوع سے پہلے عدت گزاری؟


جواب:

استاذ محترم جاويد احمد غامدی اس مسئلہ ميں يہ رائے ركھتے ہيں كہ عدت كے دوران رجوع كرنے سے طلاق مؤثر نہيں رہتی اور اس كے لئے گواہ بنانے كی ضرورت نہيں ہے۔ احناف كا بھی يہی مؤقف ہے۔ پہلی طلاق كے بعد بيوی كو گھر نہيں بھيجا جاتا۔ اسے ساتھ ركھنے كا حكم ہے تاكہ واپس آنے كا دروازہ كھلا رہے۔ صرف تيسری طلاق كے بعد بيوی كو علحدہ كيا جا سكتا ہے۔ البتہ اس شخص نے تين ميں سے ايك حق استعمال كر ليا۔ رجوع يقينا طلاق كے بعد اور عدت كے اندر ہوتا ہے۔ اب اس كے پاس ايك رجعی طلاق كا حق رہ گيا ہے۔ تيسری طلاق كی واپسی نہيں ہوتی۔

answered by: Tariq Mahmood Hashmi

About the Author

Answered by this author