توہینِ رسالت اور توبہ

سوال:

کوئی مسلمان اگر گستاخی رسول کا علانیہ ارتکاب کرتا ہے تو اِس پر بتایا جاتا ہے کہ تمام فقہاے اُمت کے نزدیک اِس جرم کی شرعی سزا کے طور پر اُسے بغیر کسی مہلت کے فی الفور قتل کردیا جائے گا ۔ اِس جرم کے ثابت ہوجانے کے بعد مجرم اگر توبہ بھی کرتا ہے تو اُس کی وہ توبہ قابل قبول نہ ہوگی ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ فقہ اسلامی کی رو سے کیا یہ بات درست ہے ؟ اِس مسئلے میں کیا واقعتاً اُمت کے فقہا کا اجماع ہے ؟


جواب:

فقہ اسلامی کے مآخذ کی رو سے یہ بات قطعاً ثابت نہیں کی جاسکتی کہ اِس مسئلے میں فقہاے اُمت متفق ہیں ۔ یہ واقعہ ہے کہ اُن کے مابین اِس مسئلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے(1)۔سوال میں بیان کردہ نقطۂ نظر مشہور روایت کے مطابق إمام مالک،إمام أحمد،لیث بن سعد،ابن تیمیہ اور بعض دوسرے فقہا کا ہے ۔ تاہم اِس مسئلے میں سیدنا علی،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما؛إمام أبو حنیفہ اور اُن کے شاگردوں اور مشہور روایت کے مطابق إمام شافعی،إمام اوزاعی اور ایک روایت کے مطابق إمام مالک اور إمام أحمد کی رائے بھی اِس مسئلے میں یہ ہے کہ ایسا شخص نہ صرف یہ کہ اگر توبہ کرلے تو اُس کی توبہ قبول کی جائے گی،بلکہ اُسے مہلت دے کر توبہ کی تلقین اور اُس کا مطالبہ کیا جائے گا(2)۔

پھر بعض فقہا کا کہنا ہے کہ ایسے مجرم سے تین مرتبہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ ایک رائے یہ ہے کہ توبہ کا مطالبہ کرنے کے بعد اُسے تین دن کی مہلت دی جائے گی ۔ إمام طحاوی (متوفی:321 ھ) کے مطابق ائمۂ حنفیہ کے نزدیک ایسے شخص کے سامنے اسلام کو از سر نو پیش کیا جائے گا ۔ وہ اگر مہلت مانگے تو اُسے تین دن کی مہلت دی جائے گی ۔ إمام نخعی اور إمام ثوری کے نقطۂ نظر کے مطابق جب تک اُس کی توبہ متوقع ہے،اُس وقت تک اُسے مہلت دی جائے گی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُسے دو مہینے تک مہلت دی جائے گی(3)۔


(1) السيف المسلول علی من سب الرسول،الإمام السبکی،ص:161۔ دار الفتح،عمان،الأردن ۔ طبعهٔ اولٰی:1421ھ۔

(2) الصارم المسلول علی شاتم الرسول،الإمام ابن تيمية/ص:320۔ دار ابن حزم،بيروت ۔ طبعهٔ اُولٰی:1417ھ۔ المفصل فی شرح حديث''من بدل دينه فاقتلوه''،علی بن نايف الشحود،397/2۔ السيف المسلول علی من سب الرسول،الإمام السبکی،ص:161۔162۔ دار الفتح،عمان،الأردن ۔ طبعهٔ اولٰی:1421ھ۔ مجموعة رسائل ابن عابدين،علامه امين بن عابدين شامی،320/1۔325۔ مطبعة در سعادت ۔ الإستانة،الترکية ۔ طُبع علی ذمة محمد هاشم الکبتی ۔1325ھ۔

(3) المبسوط،الإمام السرخسی ۔ 99/10 ۔ دار المعرفة،بيروت ۔ الشفا بتعريف حقوق المصطفٰی بتحقيق الشيخ علی محمد البجاوی،القاضی عياض،1026،1024/2 ۔ دار الکتاب العربی،بيروت ۔ 1404 ھ ۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول،الإمام ابن تيمية/ص:328 ۔ دار ابن حزم،بيروت ۔ طبعهٔ اُولٰی:1417 ھ ۔

عامر گزدر

answered by: Amir Gazdar

About the Author

Answered by this author