تصوف اور اسلام

سوال:

آپ کہتے ہیں کہ ’’تصوف اسلام کا حصہ نہیں ہے ‘‘ حالانکہ ہماری تاریخ میں مفسر، بزرگ اور عالم قسم کے جتنے بھی بڑ ے بڑ ے لوگ گزرے ہیں وہ سب صوفی تھے مثال کے طور پر امام غزالی، مولانا اشرف علی تھانوی، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ اور دیگر تمام اولیاوغیرہ اور انہوں نے علمِ شریعت کے بعد طریقت ہی کا راستہ اختیار کیا اور فرمایا کہ ’’روحانیت‘‘ تو صرف تصوف میں موجود ہے ۔صوفی ازم تو یہودیوں ، عیسائیوں اور دنیا کی دیگر اقوام میں بھی پایا جاتا ہے تو پھر اسے غیر اسلامی کیوں قرار دیا جاتا ہے؟


جواب:

تصوف کا علمی مطالعہ واضح کرتا ہے کہ اس کے تین اجز ہیں:

  1. مذہبی اعتقدات یعنی توحید، رسالت اور آخرت کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر
  2. اوراد و اشغال اور چلوں اور مراقبوں پر مشتمل بیان کردہ اعمال و وظائف
  3. عام اخلاقی رویوں میں اچھے اخلاق اپنانے اور رزائل سے پرہیز کی تلقین

ہمارے نزدیک ابتدائی دو چیزوں میں تصوف کا نقطۂ نظر قرآن و سنت کی تعلیمات سے بہت کچھ مختلف اور مبالغہ پر مبنی ہے۔ اس لیے ہم اسے غلط کہنے پر مجبور ہیں۔ ان کے تفصیلی تجزیے کے لیے آپ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تصنیف ’برھان‘ کے مضمون ’اسلام اور تصوف ‘کا مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ اس مضمون میں انہوں نے تصوف کے ائمہ کی کتابوں سے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ان کا نقطۂ نظر قرآن و سنت سے کتنا مختلف ہے ۔

آپ نے یہ بات درست نہیں فرمائی کہ ہماری تاریخ کے سارے مفسر اورعالم صوفی تھے ۔ہمارے ہاں تصوف کا غلبہ قرون اولیٰ کے بعد ہوا ہے ۔باقی جن بزرگوں کے نام آپ نے لیے ، وہ سر آنکھوں پر مگر کیا کیجیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ مقام نہیں دیا کہ دین میں اس کی بات حجت مانی جائے ۔آپ تصوف کو دین قرار دینا چاہتے ہیں تو حضور کی نسبت سے کچھ لائیے ۔حضور کے سوا کسی اور کی نسبت سے کوئی چیز دین نہیں بنتی۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author