تصوف کی اہمیت کی وجہ

سوال:

یہ حقیقت ہے کہ قرآن و حدیث میں تصوف کی کوئی بنیاد نہیں ہے، لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بر صغیر کے اکثر علما نے اس کے باوجود اسے کیوں اختیار کیا؟


جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ تصوف میں موجود نظریات کی بنیاد قرآن مجید میں نہیں ہے، مثلاً وحدة الوجود ہی کے نظریے کو دیکھ لیں، اس کے مطابق خدا کے وجود کے ساتھ کسی دوسرے وجود کو ماننا ہی شرک ہے۔ تصوف میں انسان کی ساری جد و جہد اس لیے ہوتی ہے کہ وہ صفات خداوندی کا مظہر بنے،یعنی وہ ایسا وجود بنے جس سے خدا کی صفات کا ظہور ہو۔


ایسا نہیں ہوا کہ مسلمان علما نے اسے اسلام کے مقابل میں رکھ کر ایک دوسرے دین کی حیثیت سے قبول کیا ہے، بلکہ انھوں نے دین کی ایسی تعبیر اختیار کر لی جس کے نتیجے میں وہ اسلام کی شاہ راہ سے ہٹ کر تصوف کی وادی میں گھس گئے۔ اس راہ بدلنے کی وضاحت یہ ہے کہ انھوں نے عبد و معبود کے اس تعلق عبادت کو (جس کا عملی اظہار شریعت نے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی صورت میں متعین کر دیاتھا) خدا کے ساتھ بندے کے عشق سے تعبیر کیا اور پھر تقاضاے عشق کی تکمیل کے لیے اسلام کی بیان کردہ شریعت سے آگے بڑھتے ہوئے مختلف شریعت وضع کر لی، جسے وہ طریقت اور حقیقت کہتے ہیں اور فنا فی الشیخ کی ابتدائی منزل سے فنا فی اللہ اور بقا باللہ کی انتہائی منازل کی طرف جانے والے راستے کو اپنی 'صراط مستقیم' قرار دے لیا۔ چنانچہ بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔


ہمارے خیال میں ان کے اس بہکنے کے پیچھے خدا کے ساتھ انتہائی محبت ہی کا جذبہ کارفرما رہا ہے، جیسا کہ عیسائیوں کے ہاں رہبانیت اختیار کرنے کے پیچھے خدا کی رضا کے حصول کا جذبہ کارفرما رہا ہے۔


مسلمان علما کے پاس اس سے بچنے کا راستہ یہی تھا کہ وہ اپنی ذہانت و فطانت کو وحی کے قدموں میں ڈال دیتے اور اپنے جذبوں پر خدا کے حکم کو غالب رکھتے ہوئے تمسک بالقرآن اختیار کرتے۔

answered by: Rafi Mufti

About the Author

Muhammad Rafi Mufti


Mr Muhammad Rafi Mufti was born on December 9, 1953 in district Wazirabad Pakistan. He received formal education up to BSc and joined Glaxo Laboratories Limited. He came into contact with Mr Javed Ahmad Ghamidi in 1976 and started occasionally attending his lectures. This general and informal learning and teaching continued for some time until he started regularly learning religious disciplines from Mr Ghamidi in 1984. He resigned from his job when it proved a hindrance in his studies. He received training in Hadith from the scholars of Ahl-i Hadith School of Thought and learned Fiqh disciplines from Hanafi scholars. He was trained in Arabic language and literature by Javed Ahmad Ghamidi. He is attached to Al-Mawrid from 1991.

Answered by this author