ٹی وی ايک شر؟

سوال:

ٹی وی کے بارے میں چند مولوی حضرات کہتے ہیں کہ اس میں خیر سے کہیں زیادہ شر ہے ۔ اس لیے اس کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ اس کی دلیل وہ نشہ آور چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے احکام سے دیتے ہیں ۔ آپ کی اس معاملے میں کیا رائے ہے ؟


جواب:

وہی بات جو انھوں نے کہی ہے اس کا اصول کے طور پر رکھیے کہ جب سوسائٹی میں ایسی چیزوں کا بالعمومِ غلبہ ہو جائے جیسا ٹیلی ویژن کا ہو گیا ہے تو وہی رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔نفاذ کے معاملے میں جو شراب کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ، یعنی آدمی صرف شعور ہی پیدا کر سکتا ہے لوگوں کے اندر لیکن اس کو نافذ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ یہی حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو سکھائی ہے ۔ اچھے اور برے کا شعور پیدا کرنا ہی اصل چیز ہے ۔ جب یہ شعور پیدا ہو گا تو آپ سے آپ آدمی برائی سے بچے گا ۔ اور اسی بچنے کا اللہ کے ہاں اجر ملتا ہے ۔

answered by: Javed Ahmad Ghamidi

About the Author

Javed Ahmad Ghamidi


Javed Ahmad Ghamidi was born in 1951 in a village of Sahiwal, a district of the Punjab province. After matriculating from a local school, he came to Lahore in 1967 where he is settled eversince. He did his BA honours (part I) in English Literature and Philosophy from the Government College, Lahore in 1972 and studied Islamic disciplines in the traditional manner from various teachers and scholars throughout his early years. In 1973, he came under the tutelage of Amin Ahsan Islahi (d. 1997) (http://www.amin-ahsan-islahi.com), who was destined to who have a deep impact on him. He was also associated with the famous scholar and revivalist Abu al-A‘la Mawdudi (d. 1979) for several years. He taught Islamic studies at the Civil Services Academy for more than a decade from 1979 to 1991.

Answered by this author