الٹرا ساؤنڈ سے بچےکی جنس معلوم کرنا

سوال:

بچے کی پیدایش سے پہلے ا س کی جنس کے بارے میں جاننے کےلیے الٹرا ساؤنڈ کروانا کیا از روے اسلام قابلِ اعتراض بات ہے؟ (عمران شعیب)


جواب:

قبل از پیدایش کسی بچے کی جنس کے بارے میں الٹرا ساؤنڈ کے ذریعے سے آگاہی حاصل کرنا قطعاً غیر اسلامی بات نہیں ۔ بعض لوگوں کو قرآن کریم کی ایک آیت کی بنا پرکچھ اشکال ہوجاتا ہے ۔ وہ آیت درج ذیل ہے:

’’اللہ جانتا ہے جو کچھ (حاملہ خواتین کے )رحموں میں ہوتا ہے ۔‘‘ ، (لقمان31: 34)

یہی بات سورۂرعد میں بھی کہی گئی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ حاملہ کے پیٹ میں بچے کی جنس کا جان لینا گویا اس آیت کی نفی کر دیتا ہے کیونکہ اس آیت کے مطابق یہ علم صرف اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ آیت کا جو سادہ ترجمہ ہم نے اوپر نقل کیا ہے وہ اس مفہوم کی نفی کے لیے کافی ہے ۔آیت جو بات کہہ رہی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا حاملہ کے رحم کے بارے میں کچھ بھی نہیں جان سکتا، بلکہ اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ رحمِ مادر میں جو کچھ موجود ہے اس کی ابتد سے انتہا تک ساری تفصیلات اللہ تعالیٰ کو معلوم ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ علم اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہے ۔مثال کے طور پر یہ علم کہ پیدا ہونے والابچہ باپ کے کڑ وروں جرثوموں میں سے کس جرثومہ سے وجود میں آیا، اس کے جینیٹک کوڈ میں کیا کچھ تفصیلات ڈالی جا رہی ہیں ، اس میں کیا کچھ صلاحیتیں اور امکانات رکھے جا رہے ہیں ، اس کی پیدایش متعین طور پر کب اور کن حالات میں ہو گی، اس کی شکل و صورت، مزاج و عادت کیسے ہوں گے ، یہ سب اس میں شامل ہے ۔ آیت میں استعمال کیے گئے عربی الفاظ’ما فی الارحام‘ ان سب باتوں کا احاطہ کرتے ہیں ۔

لوگوں میں پیدا ہونے والے بچے کی جنس کو غیب کی بات سمجھنے کا معاملہ اس لیے بھی عام ہوا کہ یہ آیت ہمارے ہاں علم غیب کے مسئلے کے بارے میں اکثر نقل کی جاتی ہے ۔حالاں کہ درحقیقت یہ مضمون قرآن میں دیگر جگہ بھی بیان ہوا ہے اور وہاں یہ آیت اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کے لیے بیان ہورہی ہے ۔ مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’اللہ جانتا ہے ہر مادہ کے حمل کو جو کچھ رحموں میں گھٹتا اوربڑ ھتا ہے اس کو بھی ۔‘‘ ، (رعد8:13)

اللہ کے علم کی وسعت انسانی علم کی نفی نہیں کرتی۔انسانی علم اور صلاحیت جتنی بڑ ھے گی وہ اس بچے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرتے جائیں گے ، قرآن پاک نے اس کی نفی نہیں کی ہے ۔لیکن انسانی علم جتنا بھی بڑھ جائے وہ بہرحال اللہ تعالیٰ کے اس وسیع علم کا احاطہ نہیں کرسکتا جو ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔ یہاں اسی وسیع علم کا بیان ہے ، نہ کہ علم انسانی کی نفی کا۔اسی بات کو سورۂ بقرہ میں موجود مشہور آیۃ الکرسی میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو کچھ لوگوں کے سامنے اور ان سے اوجھل ہے وہ سب جانتا ہے اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے سوائے اس چیز کے جس کا علم وہ دینا چاہے۔

answered by: Rehan Ahmed Yusufi

About the Author

Rehan Ahmed Yusufi


Mr Rehan Ahamd Yusufi started his career as a teacher and an educationist after obtaining Masters Degrees in Islamic Studies and Computer Technology from the Karachi University with distinction. He started his professional career by serving as a system analyst in a commercial organization. In 1997 he joined service in Saudi Arabia and later immigrated to Canada. 

Mr Rehan Ahmad Yusufi has been attached to people of learning from the beginning of his education career. In 1991, he was introduced to Mr Javed Ahmad Ghamid, a Pakistani religious scholar. After his return from Canada in 2002, Mr Yusufi joined Al-Mawrid, a Foundation for Islamic Research and Education, founded by Mr Ghamidi. Presently Mr Yusufi is an Associate Fellow at Al-Mawrid. His job responsibilities include propagation and communication of the religion as well as religious and moral instruction of people. He is heading a training center in Karachi which offers moral training and religious education to the masses.

Mr Rehan Ahamd Yusufi has very important works and booklets to his credit. The most important of his works include Maghrib sai Mashriq Tak, Urooj-o-Zawaal ka Qanoon awr Pakistan, and Wuhi Rah Guzar. He is also the Chief Editor of the Da’wah edition of the monthly Ishraq published from Karachi. The journal is also published online on its site http://www.ishraqdawah.com

Answered by this author