عمرہ کے دوران بال کٹوانا

سوال:

ہم اکثر آپ کے جوابات اور آرٹیکلز پڑھتے رہتے ہیں۔ اور ہمیں آپ کے تفصیل سے لکھنے کا طریقہ پسند آیا ہے۔ یہاں جدہ میں ہم ایک بہت بڑے مسئلے میں، جو کہ عمرہ کے بعد بال کٹوانے کے بارے میں ہے، الجھے ہوئے ہیں۔ اور آپ سے اس مسئلے کے جلدی جواب کی درخواست ہے۔ہم جدہ (میقات) میں کئی سال سے کام کر رہے ہیں۔ ہماری عام مشق یہ ہے کہ ہم کمرے سے اہرام باندھ کر مکہ کی طرف عمرہ کے لیے جاتے ہیں۔ پھر وہاں سے براہ راست جدہ اہرام باندھے ہوئے ہی آتے ہیں اور یہاں ہم اپنے بال کٹوا کر اہرام اتارتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے کہ جدہ ہی میں بال کٹوائے جائیں؟ اور بال کس حد تک کٹوائے جائیں؟ رہنمائی فرمائیے۔


جواب:

آپ نے پوچھا ہے کہ کیاعمرہ کرنے کے لیے جدہ سے احرام باندھ کر جانے اور واپس آکر جدہ ہی میں بال کٹوا کر احرام کھولنے میں کوئی حرج ہے۔آپ نے بال کٹوانے کی مقدار بھی پوچھی ہے۔

اگر آپ میقات سے یا میقات سے پہلے احرام باندھتے ہیں تو یہ بالکل درست ہے۔ اسی طرح اگر آپ حدود میقات کے اندر مقیم ہوں اور وہاں سے آپ کی عمرے کی نیت بنے تو وہیں سے احرام باندھا جائے گا مقام میقات پر جانا لازم نہیں۔ عمرہ کرنے کے بعد بال کٹوا کر احرام کھولنا ہے۔ میرے علم کی حد تک آپ کے عمل میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔کوئی ایسی بات میرے علم میں نہیں ہے کہ جس میں مکہ ہی میں احرام کھولنا ضروری ہو۔ البتہ اگر آپ نے قربانی کرنی ہو تو یہ مکہ ہی میں ہو گی اس صورت میں آپ بال بھی مکہ ہی میں کٹوائیں گے اور احرام بھی مکہ ہی میں کھولیں گے۔

بال کٹوانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک میں استرے سے سر مونڈھا جاتا ہے اور دوسرے میں مشین یا قینچی سے بال چھوٹے کیے جاتے ہیں۔ فضیلت استرے سے مونڈھنے میں ہے۔


answered by: Talib Mohsin

About the Author

Talib Mohsin


Mr Talib Mohsin was born in 1959 in the district Pakpattan of Punjab. He received elementary education in his native town. Later on he moved to Lahore and passed his matriculation from the Board of Intermediate and Secondary Education Lahore. He joined F.C College Lahore and graduated in 1981. He has his MA in Islamic Studies from the University of Punjab. He joined Mr Ghamidi to learn religious disciplines during early years of his educational career. He is one of the senior students of Mr Ghamidi form whom he learnt Arabic Grammar and major religious disciplines.

He was a major contributor in the establishment of the institutes and other organizations by Mr Ghamidi including Anṣār al-Muslimūn and Al-Mawrid. He worked in Ishrāq, a monthly Urdu journal, from the beginning. He worked as assistant editor of the journal for many years. He has been engaged in research and writing under the auspice of Al-Mawrid and has also been teaching in the Institute.

Answered by this author